مجرم شکیل آفریدی کے بدلے مظلوم عافیہ کی رہائی… اب نہیں تو کبھی نہیں!

0
30

دورہ امریکا میں عمران خان نے شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کی۔ (فوٹو: فائل)

دورہ امریکا میں عمران خان نے شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کی۔ (فوٹو: فائل)

’’شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی پر بات ہوسکتی ہے۔‘‘ حالیہ امریکی دورے پر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا امریکا میں قید، امت کی مظلوم بیٹی عافیہ صدیقی سے متعلق یہ بیان امید کی ایک کرن ہے۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف بلند ہونے والی پہلی مؤثر آواز عمران خان کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حق میں تھی۔ انہوں نے افغان قید سے رہائی پانے والی برطانوی نومسلم صحافی یون ریڈلے کی گواہی پر ڈاکٹر عافیہ کی مظلومانہ قید کا انکشاف کیا۔ وہ اس کیس کو میجر ایشو کے طور پر منظرِ عام پر لائے اور عافیہ صدیقی کی رہائی کےلیے مسلسل آواز بھی اٹھاتے رہے۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: جرمِ بے گناہی کے سات سال

عمران خان نے اس ایشو کو 2018 میں اپنے انتخابی منشور میں بھی شامل کیا، جس میں قوم سے وعدہ کیا گیا تھا: ’’پاکستان تحریکِ انصاف، برسرِ اقتدار آنے کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور (بیرونِ ملک قید) دوسرے پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لانے کی پوری کوشش کرے گی۔‘‘

یہ بلاگ بھی پڑھیے: حکومت ڈاکٹر عافیہ کیلئے ایک خط بھی نہ لکھ سکی

عمران خان کی اس انسانی ہمدردی ہی کے پیشِ نظر، ڈاکٹر عافیہ نے انہیں جیل کی کوٹھڑی سے خصوصی خط کے ذریعے پکارا: ’’میں قید سے رِہا ہونا چاہتی ہوں۔ امریکا میں میری قید غیر قانونی ہے، کیوں کہ مجھے اغوا کرکے امریکا لے جایا گیا تھا۔ عمران خان نے ماضی میں بھی میری حمایت کی ہے۔ میں نے انہیں ہمیشہ ایک بڑا ہیرو سمجھا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں مبینہ طور پر اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کی اجازت پر کراچی سے تین چھوٹے بچوں سمیت اغوا کرکے بگرام ایئربیس افغانستان لے جایا گیا تھا۔ یہاں ان پر پانچ سال تک امریکی عقوبت خانے میں انسانیت سوز مظالم توڑے گئے۔ برطانوی نومسلم صحافی یون ریڈلے نے یہاں موجود قیدی نمبر 650 کے ڈاکٹر عافیہ ہونے کا انکشاف عالمی میڈیا کے سامنے کیا۔ اس کے بعد عافیہ کے خلاف ایک عجیب و غریب مقدمہ تیار کیا گیا جس کے مطابق یہ کمزور اور زخموں سے چُور خاتون، بھاری بھرکم ’’ایم فور گن‘‘ اٹھا کر امریکی فوجیوں پر حملے کی مرتکب ہوئی تھی۔ ایک فوجی قریب سے گولی مار کر عافیہ کو زخمی کردیتا ہے، وہ بچ جاتی ہے اور 2009 میں امریکا منتقل کردی جاتی ہے۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ناقابلِ تسخیرعورت

امریکی قیدیوں پر حملہ کرنے اور مارنے کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ پر مقدمہ چلایا گیا۔ فرضی اور رسمی عدالتی کارروائی کے بعد چھیاسی (86) سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ قید کی سزا کے طور پر انہیں کرذویل جیل میں 6×6 کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ جسمانی تشدد اور برہنگی کی اذیت، قرآن کی بےحرمتی پر لباس دینے کی شرط، اور ان جیسے نہ جانے کتنے ہی مظالم کا سامنے کرنے کے باوجود عافیہ کی امید روشن ہے۔

اللہ کے بعد سب زیادہ پرامید وہ اپنے لوگوں اور اپنے حکمران عمران خان سے ہے، جس نے اولین طور پر اس کےلیے آواز بلند کی۔

اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کا موجودہ امریکی دورہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ عمران خان نے امریکا میں ایک ٹی وی انٹرویو میں شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات کی۔ یہی نہیں بلکہ امریکا کو مطلوب شکیل آفریدی کو پاکستان میں مقیم جاسوس بتایا۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: ڈاکٹر عافیہ تو زندہ ہے، انصاف کب زندہ ہوگا؟

حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی ایک جاسوس ہی نہیں، پاکستان اور انسانیت کا مجرم ہے… اس نے امریکا کی خاطر اسامہ بن لادن کی تلاش کےلیے جعلی پولیو مہم، سازشی طور پر چلائی۔ یہ پاکستان کے آئین، قانون اور قواعد و ضوابط کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اسے اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات درکار تھیں تو وہ پاکستان کے حساس اداروں سے رابطہ کرتا، مگر اس کے برخلاف وہ امریکا کے رابطے میں رہا جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

اس کے اسی سیاہ کارنامے کی وجہ سے پولیو کے خاتمے پر کےلیے کام کرنے والے تمام لوگ مشکوک ٹھہرے۔ پولیو ٹیموں پر حملے، اموات، پولیو کے قطرے نہ پلوانے کے باعث معذوریاں، ان سب عوامل کے باعث وہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ انسانیت کا مجرم بھی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری اور پولیو مہم کے دوران جاسوسی جیسے معاملات سامنے آنے پر عالمی سطح پر پولیو سے متعلق کام کرنے والے سائنسدانوں اور تحقیق کار طبقے نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اس انسانیت دشمن کام پر سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔

مشہور و معتبر امریکی جریدے ’’سائنٹفک امریکن‘‘ نے اپنے شمارہ مئی 2013 میں انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے جرم پر باقاعدہ احتجاجی اداریہ بھی شائع کیا جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی پولیو مہم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اس حرکت کی وجہ سے ’’پولیو کے خلاف ہماری کوششیں بیس سال پیچھے پہنچ گئی ہیں۔‘‘ اس طرح ڈاکٹر شکیل آفریدی وطن و انسانیت، دونوں کا مجرم ہے۔

دوسری جانب یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ وزیراعظم کا حالیہ دورہ امریکا شروع ہونے سے قبل ہی، ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، امریکا عالمی مالیاتی ادارے پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ شکیل آفریدی کی رہائی تک پاکستان کو قرضہ نہ دے؛ جبکہ اسی وجہ سے امریکا نے پاکستان کی تیرہ کروڑ ڈالر کی امداد پہلے ہی روکی ہوئی ہے۔ شکیل آفریدی کے وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ میں اس کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے اور وہ رہائی کےلیے پرامید بھی ہیں۔

بدقسمتی سے اس امید کو تقویت پہنچانے میں ہماری حکومتوں کا شرمناک کردار رہا ہے۔ پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کا معاملہ ہو یا حالیہ درانداز پائلٹ ابھی نندن کی جارحیت، ہمارے حکمرانوں نے خیر سگالی کے نام پر امریکی فرمانبرداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: کرنل جوزف کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی

وزیراعظم کے حالیہ دورے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکیل آفریدی کے حوالے سے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا: ’’امریکا دنیا بھر میں ’اپنے یرغمال‘ لوگوں کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔‘‘

ٹرمپ کے اس بیان سے بھی واضح ہے کہ شکیل آفریدی کی امریکا حوالگی کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ مگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی تو سیاسی قیدی ہیں، اس رُو سے اس فیصلے کو ایک سیاسی ڈیل کے طور پر کرکے اہم سفارتی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

غدار شکیل آفریدی کے بدلے مظلوم ڈاکٹر عافیہ کی رہائی خود حکمران اور حکومت کے عزت و وقار میں اضافے کا باعث ہوگی۔

عمران خان کا وزیراعظم بننے سے قبل کہنا تھا: ’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا غیروں کی قید میں رہنا وقت کے حکمرانوں کےلیے انتہائی شرمناک ہے۔ اگر ہم عافیہ کو رہا نہ کروا سکے تو یہ بدترین مایوسی والی بات ہوگی۔‘‘

یہ بلاگ بھی پڑھیے: خان صاحب، عافیہ کی آس ٹوٹنے نہ دیجیے!

خان صاحب! آج آپ وقت کے حکمران ہیں، قوم پستی کی ابتر حالت سے نکلنے کےلیے آپ کے عزم و ہمت کی منتظر ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here