اسٹیٹ بینک: نئے اوزان کے مطابق حقیقی شرح مبادلہ جاری

0
31

نظر ثانی شدہ طریقہ میں غیرملکی کرنسیوں کی باسکٹ کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے
 (فوٹو: فائل)

نظر ثانی شدہ طریقہ میں غیرملکی کرنسیوں کی باسکٹ کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے
(فوٹو: فائل)

کراچی:  اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف کے نئے اوزان کے مطابق حقیقی شرح مبادلہ جاری کر دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2018سے جون 2019کے دوران روپے کی قدر 15.8فیصد کم ہوئی۔ اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ حقیقی موثر شرح مبادلہ کے تعین کے لیے آئی ایم ایف کا مجوزہ طریقہ اختیار کرلیا ہے۔ نظر ثانی شدہ طریقہ میں غیرملکی کرنسیوں کی باسکٹ کی تعداد بڑھ کر 37ہوگئی ہے۔

نئے اوزان کا حساب آئی ایم ایف کے عالمی معیشت کے 2013سے 2015کے تجارتی حالات پر مبنی ہے۔ نئے اوزان پاکستان کے لیے تجارتی حرکیات میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔نئے اوزان کے حساب کے لحاظ سے جون 2018سے جون 2019 میں شرح مبادلہ 15.8فیصد کم ہوئی۔

پرانے اوزان کے لحاظ سے شرح مبادلہ میں 13.9فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ چونکہ حقیقی موثر شرح مبادلہ اہم تجارتی شراکت داروں، حریفوں کی باسکٹ کرنسیوں کے مقابلے میں نکالی جاتی ہے اس لیے یہ ایک متحرک تصور ہے کیونکہ ہر ملک کے تجارتی شراکت دار وحریف وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ چنانچہ موثر شرح مبادلہ کے لیے اوزان اور تجارتی شراکت داروں پر معمول کے مطابق وقتاً فوقتاً نظر ثانی ہوتی رہتی ہے تاکہ حقیقی موثر شرح مبادلہ تازہ ترین تجارتی شراکت داروں کی بہتر عکاسی کرے۔

Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here