مذہب کی جبری تبدیلی کا پروپیگنڈا بکواس سے زیادہ کچھ نہیں ، رانا ہمیر سنگھ

0
27

تعارف :
گذشتہ انتخابات میں تھر سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والے رانا ہمیر سنگھ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، ان کے والد کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے، ان کا تعلق اس تاریخی راجپوت خاندان سے ہے جو ایک زمانے تک تھر میں راج کرتا رہا۔ ان کے نام میں ’’رانا‘‘ کا سابقہ اسی راج کی دین ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ان کے دادا رانا ارجن سنگھ نے اپنے ہندو اکثریتی علاقے کو پاکستان میں شامل کرکے تاریخ رقم کی۔

ان کے پُرکھ سودھا جی نے 1125قبل مسیح میں امر کوٹ کو فتح کیا اور جب شیرشاہ سوری نے مغل بادشاہ ہمایوں کو ہندوستان کے تخت سے محروم کردیا تو اس وقت ان کے اجداد میں سے ایک رانا پرساد نے ہمایوں کو پناہ دی۔ 1542 میں مغل بادشاہ اکبر نے بھی امر کوٹ میں واقع ان کے تاریخی قلعے میں جنم لیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے رانا ہمیر سنگھ کی گئی گفت گو میں ان کے خاندان کی تھر سے جُڑی تاریخ، تھر کی سیاست، اور اس خوب صورت علاقے کے رسم و رواج کا احاطہ کیا گیا ہے جسے قارئین کی دل چسپی کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

 

ایکسپریس: تھر پاکستان کا ایک منفرد اور خوب صورت علاقہ ہے، یہاں سیاحت کو فروغ دیا جائے تو تھر کے باسیوں کے بنیادی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ کیا آپ کے پاس ایسا کوئی منصوبہ ہے ؟

رانا ہمیر سنگھ: ہماری حکومت چاہے وہ صوبائی ہو یا وفاقی، جب تک سیاحت کے فروغ کے لیے عملی طور پر اقدامات نہیں کرے گی، اس وقت تک پورے پاکستان خصوصاً تھر میں سیاحوں کی دل چسپی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہاں ایک بات یہ بھی واضح کردوں یہ کام صرف اکیلی حکومت کے کرنے کا نہیں ہے، حکومت کو صرف ابتدائی کام کرکے نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی دعوت دینی ہے۔ تھر مختلف روایتوں، متنوع ثقافت اور خوب صورت محل وقوع رکھنے والا علاقہ ہے، جس کی خوب صورتی کو محض چند جملوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے اپنی جماعت کی پالیسی میٹنگ میں بھی یہ بات کہی ہے کہ آپ صرف ابتدائی قدم اٹھائیں، سرمایہ کار خود چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔ میں نے تھر میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک پالیسی بنائی ہے، جس سے آپ وہاں کے مقامی باشندوں سے اشتراک کر کے نہ صرف ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ اس سے سیاحت کا ایک ایسا تصور بھی پیدا ہوگا جس کے لیے دنیا بھر کے سیاح لاکھوں روپے خرچ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ تھر کے تعلقے کو منتخب کریں، پھر اس میں ایسے دیہات شناخت کریں، جہاں تک پہنچنے کے راستے بنے ہوں، ضروری نہیں کہ پکی سڑک ہی ہو۔

پہلے مرحلے میں آپ پکی سڑک والے گاؤں منتخب کرسکتے ہیں جہاں تک رسائی بہت آسان ہے۔ ان دیہات کی فہرست مرتب کرنے کے بعد نجی شعبے کو مدعو کریں۔ ایک سیاح کو رہنے کے لیے روشن ہوادار صاف کمرہ، حوائج ضروریہ کے لیے صاف ستھرا بیت الخلا، اور کھانا پکانے اور کھانے کے لیے باورچی خانہ اور صاف برتن چاہیے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو کچھ نہیں کرنا، آپ ان منتخب کیے گئے دیہات میں قائم گھروں میں دو کمرے سیاحوں کے لیے مختص کردیں، جس میں اٹیچ باتھ روم، صاف ستھرا کچن، برتن اور سونے کے لیے صاف ستھرا بستر موجود ہوں۔ اس گھر کے مالک کو تھوڑی بہت تربیت دے دیں۔

کھانے کی ریسیپی وہی رکھی جائے جو تھر کی روایات ہے، اور اس کے لیے آپ اپنے مہمان سے فی پلیٹ کے حساب سے پیسے چارج کرسکتے ہیں۔ اسی گاؤں میں سیاحوں کی تفریح کے لیے فوک میوزک، فوک ڈانسرز، اونٹ اور گھوڑے کی سہولیات بھی فراہم کردیں جس پر آپ کو کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کرنی کیوں کہ یہ سب پہلے سے ہی ان کے پاس موجود ہے۔ گھر کا مالک آپ کو کھانے میں خالص آرگینک سبزیاں، مرغیاں ، دودھ فراہم کرے گا۔ جس ڈھانی (جھونپڑی ) میں میں آپ رہیں گے، اس کے مالک کی بھیڑبکریاں، گائے بھینسیں بھی آرگینک چارہ کھاتی ہیں، کیوں کہ ان پر زہریلی جڑی بوٹی مار ادویات کا اسپرے نہیں کیا جاتا۔ اگر آپ اپنے مہمان خانے کو مزید پُرتعیش بنانا چاہتے ہیں تو ایک سولر پینل لگا کر اس میں ایک ڈش، پنکھا، فرج رکھ دیں، بہت زیادہ وی آئی پی کرنا ہے تو ایک اے سی لگادیں۔

جب کوئی بھی سیاح اس گاؤں میں پہنچے گا تو وہاں کے مقامی باشندے اور اس کا میزبان گیت گا کر اس کا استقبال کرے گا۔ گیت گا کر مہمانوں کا استقبال کرنا ہماری قدیم روایت ہے۔ ہمارے یہاں ہر موسم اور موقع کے لیے گیت مختص ہیں، مہمانوں کے لیے گاؤں کی عورتیں سامنے آئے بنا پیچھے بیٹھ کر گیت گاتی ہیں،  اسی طرح رشتے داروں کے استقبال کے لیے گیت الگ ہیں، ان گیتوں سے گاؤں والے سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں گھر میں مہمان آیا ہے یا رشتے دار۔ اسی لحاظ سے آپ کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ میزبان اپنی بیل گاڑی میں اونٹ جوت کر، گدے لگا کر آپ کو ایک ایک جگہ گھمائے گا، آپ کو اپنی ثقافت سے روشناس کرائے گا۔

اور یہ سب کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ آپ کے پاس پہلے سے انفرااسٹرکچر موجود ہے بس حکومت کو نجی شعبے کو مدعو کرے اور متعلقہ دیہات کے لوگوں کو مہمان خانے کی تعمیر، برتن اور دیگر اشیا کی خریداری کے لیے آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں۔ سیاحوں کی آمدورفت سے ایک طرف تھر میں معاشی خوش حالی ہوگی تو دوسری طرف حکومت کو ریونیو کی مد میں خطیر رقم بھی ملے گی۔ ہمارے یہاں ہر موسم کے اپنے اپنے میلے ہوتے ہیں، آپ ان فیسٹولز کی تاریخوں پر مشتمل ایک چارٹ بناکر اسے فروغ دیں، ٹور آپریٹرز کو ان میلوں میں شرکت کی ترغیب دیں۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کرنا کوئی راکٹ سائنس ہے اور نہ ہی اس کے لیے اربوں، کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، آپ ابھی دیہات شناخت کرکے نجی شعبے کو دعوت دیں، سیکڑوں این جی اوز آجائیں گی، لیکن ابتدا تو حکومت کو ہی کرنی ہوگی۔

ایکسپریس: تھر اور یہاں کے باسیوں کی ایک خوب صورت تاریخ ہے، جس میں آپ کے خاندان کا حوالہ اور نام منفرد اور ممتاز ہے، اس پر کوئی کتاب تو سامنے آنی چاہیے۔

رانا ہمیر سنگھ : تھر اور ہمارے پُرکھوں کی تاریخ پر ایک کتاب موجود ہے جسے ہم سوڈھائن کہتے ہیں۔ اس پر جودھ پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ستی دان چارن نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا تھا۔ انہوں نے ہماری تاریخ پر لکھے کو مقالے ’فرسٹ آف سودا‘ کے نام سے کتابی شکل میں ڈھالا تھا۔ پروفیسر ستی دان کے بعد اس کتاب میں میرے پتا نے کچھ اضافہ کیا تھا اور کچھ اضافہ میں نے بھی کیا ہے، ہماری برادری کے کچھ لڑکے اس پر مزید ریسرچ کر رہے ہیں۔ میں حال ہی میں اس کتاب کو لے کر آیا ہوں، یہ ہندی زبان میں ہے میں نے اسے یہاں اردو اور انگریزی میں ترجمہ کروانے کے لیے دیا ہے۔

ایکسپریس: وہ کیا وجوہات ہیں کہ قدرتی خوب صورتی سے مالامال یہ علاقہ ابھی تک سیاحوں کی توجہ سے محروم ہے جب کہ بھارت نے راجستھان کو ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کردیا ہے۔

رانا ہمیر سنگھ: اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے اوراق میں جھانکنا ہوگا۔ پاکستان 1947میں بنا، پاکستان بننے کے بعد سے1997تک یہ علاقہ نوگو ایریا تھا، کیوں کہ اس سرحد پر دو جنگیں ہوچکی تھیں۔ سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اپنے دور میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر مٹھی سے نوکوٹ تک ایک کچا پکا روڈ بنا دیا تھا۔ اس ایک روڈ کے علاوہ 1997تک یہاں نہ کوئی سڑک تھی، نہ بجلی، وزیراعظم کو بھی اس علاقے میں کوئی کام کرنے سے پہلے وزارت دفاع سے اجازت لینی پڑتی تھی۔ سابق صدرپرویز مشرف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس نوگو ایریا کو ختم کیا۔1997 کے بعد صدرمشرف نے تھر میں انفرااسٹرکچر قائم کیا، بجلی فراہم کی، پکی سڑکیں بنائیں اور اب بہت سی غیرسرکاری تنظیمیں تھر میں کام کر رہی ہیں اور نگرپارکر ان کی توجہ کا مرکز ہے۔ اب وہاں موٹیل بن رہے ہیں۔ اس سے پہلے تھر میں جو بھی کام ہوا وہ ذوالفقار علی بھٹو نے کروایا، انہوں نے شملہ معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں ہمارے بہت سے ایسے تعلقے جن پر بھارتی فوج قابض ہوگئی تھیں۔ ان سے قبضے واگزار کروائے۔ امر کوٹ، چھاچھرو، اور نگرپارکر میں لوگوں کی ازسرنو بحالی کے پروگرام کا آغاز کیا اور بے گھر تھریوں کو واپس آباد کیا۔

اس کے بعد جونیجو صاحب نے جس طرح گھر گھر جاکر لوگوں کی مدد کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہیں ’سندھ ایرڈ زون اتھارٹی (سازدا) کے قیام کا کریڈٹ بھی جاتا ہے جس کے تحت پورے تھر میں صحت کے بنیادی مراکز کا نیٹ ورک قائم کیا گیا، پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کیا گیا۔ 1994ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا آغاز کیا، جس کے تحت ہر تین خواتین کے لیے ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو تعینات کیا گیا۔ اب بات کرتے ہیں تھر اور راجستھان میں سیاحت کے فروغ کی۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ تھر میں سیاحت کا فروغ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نہیں ہوگی۔ میں آپ کو سرحد کی دوسری جانب موجود صحرا راجستھان کی ایک مثال دیتاہوں۔ میں نے 1963ء سے1975ء تک راجستھان میں تعلیم حاصل کی ہے، اس وقت تک راجستھان بھی صرف ایک صحرا ہی تھا۔ دنیا بھر کے سیاح بھارت آتے تھے لیکن راجستھان نہیں، کیوں کہ وہاں انفرااسٹرکچر ہی نہیں تھا۔

بھارتی حکومت نے وہاں سیاحت کے فروغ کے لیے سب سے پہلے انفرااسٹرکچر بنایا، انفرااسٹرکچر بنانے کے بعد انہوں نے سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے ’ ہیریٹیج ‘ پر کام کیا۔ اس وقت راجستھان کے وزیراعلٰی بھیرو سنگھ شیخاوت تھے جن کا تعلق حکم راں جماعت بھارتی جنتا پارٹی سے تھا۔ وزیراعلٰی بھیرو سنگھ شیخاوت نے ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے ایک اسکیم کا آغاز کیا، جس کے تحت کم سے کم سو سال پرانے قلعوں، محلات، حویلیوں اور تاریخی عمارات کو ثقافتی ورثے میں شامل کیا۔ انہوں نے ان عمارات کے مالکان کے لیے ان عمارتوں کو ان کی اصلی شکل میں واپس لانے کے لیے ایک فارمولا طے کیا جس کے تحت سو سال تک پرانی عمارت کی بحالی کے لیے بیس فی صد سرمایہ اس عمارت کا مالک اور اسی فی صد سرکار نے دیا۔ اسی طرح ڈھائی سو سال پرانی عمارت کے لیے مالک کو بیس فی صد سے بھی کم اور حکومت کو اسی فی صد سے زائد سرمایہ دینا تھا۔ پانچ سو سال پرانی عمارت کے لیے تقریباً نوے فی صد رقم سرکار اور دس فی صد مالک کو دینا تھی۔ اس انوکھی اسکیم کی بدولت وہی راجستھان جو ریت اور مخدوش عمارتوں پر مشتمل صحرا تھا، آج اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے، اور اس کی آمدنی کا ستر سے اسی فی صد اس کے ثقافتی ورثے اور سیاحت سے حاصل ہونے والی رقم پر مشتمل ہے۔

ایکسپریس: اندرون سندھ خصوصاً تھر میں مذہب کی جبری تبدیلی کا الزام لگایا جاتا ہے، یہ معاملہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں کشیدگی کا سبب بنتا ہے، ہندو اور مسلم دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، یہ مسئلہ کس طرح حل کیا جاسکتا ہے۔

رانا ہمیر سنگھ :1947ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے ایک ملک وجود میں آیا جس میں 95 فی صد مسلمان اور پانچ فی صد اقلیتیں (جن میں ہندو، مسلم، عیسائی ، قادیانی اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں) رہتی ہی۔ کچھ عرصے سے مذہب کی جبری تبدیلی کا جو پروپیگنڈا چل رہا ہے، یہ محض بکواس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں رہنے والے 95 فیصد مسلمان آج یہ سوچ لیں کہ اس ملک میں اقلیتوں کو نہیں رہنے دینا تو پھر ایک منٹ تو دور کی بات پلک جھپکتے ہی اقلیتوں کو صفایا ہوجائے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ پورا تھر کا صحرا 77ہزار اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں سے 24 ہزار اسکوائر کلومیٹر پاکستان میں ہے۔ اس طرف والے کو ’راجپوتانہ‘ اور ہماری طرف والے کو ’ڈھاٹ‘ کہتے ہیں، میں اسی ڈھاٹ کا ہی رانا ہوں۔ 24 ہزار اسکوائر کلومیٹر پر محیط میرے ڈھاٹ میں آج بھی کوئی مسلمان گائے کا گوشت نہیں کھاتا، میرے تھر میں ’گاؤ ہتھیا‘ ہے ہی نہیں، وہاں کے مسلمان صرف ہندوؤں کے مذہبی جذبات کا خیال کرتے ہوئے گائے کاٹتے ہی نہیں ہیں۔ وہاں جتنی بھی مسلمان قومیں رہتی ہیں، وہ بنا کسی قانون، کسی زورزبردستی کے رضاکارانہ طور پر گائے نہیں کھاتیں۔ ہماری اپنی روایات ہیں جس کے تحت ڈھاٹ میں جتنی بھی مسلمان قومیں رہتی ہیں۔

ان میں سے ہر قوم میں سے ایک آدمی رانا آف امر کوٹ کا پردھان ہے، یعنی میری پگ باندھتا ہے۔ اسی طرح اربابوں کے علاقے میں رہنے والی ہر ہندو قوم میں سے ایک آدمی ارباب کی پگ باندھتا ہے۔ تھر کا مرکزی ذریعہ معاش مویشی ہیں اور جس جس علاقے میں جس جس قوم کا پردھان ہماری پگ باندھتا ہے، اس کے نیچے جتنے بھی مویشی ہیں ان پر میرے نشان ’رانا امر کوٹ کا داغ ‘ ( مہر) لگتا ہے۔ اسی طرح اربابوں کی پگ باندھنے والی قوموں کے مویشیوں پر اربابوں کا داغ لگتا ہے۔ اگر کسی کی بکری بھی چوری ہوجاتی ہے تو اسے واپس لانا اس پردھان کی ذمے داری ہے، کیوں کہ اس غریب کی بکری چوری نہیں ہوئی ہے بلکہ رانا کے نشان کا داغ، اس کی پگ کی چوری ہوئی ہے۔ اب جہاں روایات کی پاس داری کا ایسا نظام موجود ہو جہاں مسلمان خود سے گائے کا گوشت نہیں کھاتا ہو تو پھر وہی مسلمان کیسے ایک ہندو کو زبردستی مسلمان کرسکتا ہے؟

ایکسپریس: آپ کے خیال میں پاکستان میں ہندو اقلیت کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟

رانا ہمیر سنگھ: اس کے لیے میں ایک آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ہے پاکستان میں نہیں، آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ ہندوستان میں مسلمان صدر بھی بن سکتا ہے، وزیراعظم بھی بن سکتا ہے، لیکن پاکستان میں اقلیت کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایک مسلمان گورنر نے صرف توہین مذہب کے قانون کو ختم کرنے کا کہا اور اسے اس کے محافظ نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ یعنی اس نے ایک اقلیت کے لیے گولی کھائی؟ لیکن آپ بھارت میں ایک بھی ہندو سیاست داں ایسا دکھا دیں جس نے مسلمانوں کے لیے گولی کھائی ہو؟ میں آپ کو ایک اور زندہ مثال دیتا ہوں، جام شورو تحصیل میں تھانہ بولا خان کے نام سے ایک قصبہ ہے جس کا سردار ملک اسدسکندر ہے۔ تھانہ بولا خان میں کوہستانی بنیے کاروبار کرتے ہیں، یہ بزنس کمیونٹی پر مشتمل بڑا ٹاؤن ہے، پورے پاکستان میں ان کا کاروبار ہے، اور سندھ میں تو ان کا کاروبار گاؤں گاؤں پھیلا ہوا ہے۔

ملک اسد سکندر یہاں رہنے والی 32قوموں کا سردار ہے، لیکن انتخابات میں وہ اپنی صوبائی اسمبلی کی جنرل نشست ایک ہندو کو دے دیتا ہے اور 32 قوموں کے مسلمان اپنے ووٹ سے اس ہندو کو جتوا بھی دیتے ہیں۔ کیا اس کے پاس32  قوموں میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا جسے وہ اپنی سیٹ دیتا؟ وہاں تو ہندو بنیوں کی تعداد آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے، لیکن ملک اسد سکندر نے ایک ہندو کو اپنی سیٹ صرف اس اقلیت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دی۔ آپ بھارت میں ایک بھی ایسی مثال بتادیں کہ کسی ہندو نے اپنی ذاتی سیٹ کسی مسلمان کو دی ہو؟ ایک بھی مثال بتادیں کہ اس بھارت میں ایک بھی راجا مہاراجا یا رانا کے نیچے اس کے راج میں مسلمان بھی اس کا پگ دار ہے؟ میں اس کی سب سے بڑی مثال ہوں۔ وہاں ’گاؤ ہتھیا‘ کو روکنے کے لیے قانون بنایا جا رہا ہے، اور یہاں پر پچانوے فی صد اکثریت رکھنے والا مسلمان کسی قانون کے بنا میری عزت اور مان کو رکھتے ہوئے گاؤ ہتھیا نہیں کرتا۔ اس کی وجہ ہے سوچ! سوچ ذات پات یا مادیت پرستی سے نہیں آتی، یہ سوچ روحانیت سے آتی ہے۔ یہاں مسلمان ہی ہندوؤں کا محافظ ہے۔ بھارت میں جتنا شور شرابا مودی کر رہا ہے اگر پاکستان میں کوئی اس طرح شروع ہوجائے تو پھر انہیں کوئی روک سکتا ہے؟ اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لیے دستور چاہیے سوچ کے لیے دستور چاہیے۔ ہمارے دستور کیا تھے۔ میں اپنی مثال دیتا ہوں، جب شادی کے بعد میری والدہ گھر آئیں تو ہمارے یہاں گود بھرائی کا دستور ہوتا ہے۔ میری ماں جب گھر آئیں تو میر علی بخش تالپور نے میری والدہ کو اپنی بیٹی بنایا، میر منور میرا ماما لگتا ہے، فریال تالپور لوگوں کی ادی ہوگی میری مامی لگتی ہے۔ یہ عام رواج تھا اس میں ذات پات، مذہب کہاں سے آگیا؟

ایکسپریس: کیا ذات پات کا فرق پاکستانی ہندو برادری کے مسائل میں اضافے کا سبب نہیں؟

رانا ہمیر سنگھ: اس دھرتی پر جب صوفی ازم آیا تو یہاں پر دو طریقوں سے مذہب میں تبدیلیاں ہوئیں۔ سب سے پہلی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اس دھرتی پر صوفی سَنت صوفی ازم لے کر آئے، اس وقت ہندو دھرم چار حصوں میں بٹ گیا تھا، شودر، ویش، کھتری اور برہمن۔ اب شودر یعنی مزدور جتنا بھی قابل ہو مزدور ہی رہے گا، دکان دار نہیں بن سکتا، راج نہیں چلاسکتا، دھارمک (مذہبی) کتاب نہیں پڑھ سکتا، بنیے کا بیٹا بنیا ہی رہے گا، ایڈمنسٹریشن نہیں چلا سکتا، راجپوت کا بیٹا نالائق ہو پھر بھی راج کرے گا، اسی طرح براہما کا بیٹا مہا نالائق ہو پر اس کے پیر پڑنا ہی پڑنا ہے۔ تو جو ہندو دھرم کی فلاسفی سناتن دھرم کی تھی وہ ٹوٹ گئی۔

سناتم دھرم میں ذاتیں نہیں چار ورگ تھے، شودر، ویش، کھتری اور براہمن، یعنی وزارت محنت، وزارت دفاع اور وزارت تعلیم، آدمی کس گھر میں پیدا ہوا ، وہ اس کی پہچان نہیں اس کی پہچان اس کے پیشے سے ہے۔ وہ اپنے کاموں کی بنا پر پہچانا جائے گا، اگر راجپوت کا بیٹا مزدوری کرتا ہے تو شودر کہلائے گا، اگر بزنس میں ہے تو بنیا کہلائے گا، فوج میں ایڈمنسٹریشن میں ہے تو راجپوت اور اگر تعلیم، انجینئرنگ، میڈیکل کے پیشے سے وابستہ ہے تو پھر برہمن کہلائے گا، اس کو توڑ کر انہوں نے ذاتیں بنادیں۔ میرے گاؤں میں راجیہ نام کا ایک جمع دار (خاکروب) تھا۔ ہمارے دو باورچی خانے ہوتے ہیں، ایک باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے اور دوسرا گھر کے افراد کے لیے، تو راجیہ واحد آدمی تھا جو گھر کے افراد کے لیے بنے کچن سے کھانا کھاتا تھا، اسی طرح میری دائی میگواڑن (میگواڑی ہندو کمیونٹی کی ایک پس ماندہ ذات) تھی، تو اب ہندو دھرم میں سے ذات پات کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔

ایکسپریس: تھر کی کوہلی، میگواڑ، رباری اور بھیل برادری ابھی تک طبقاتی نظام کی چکی میں پس رہی ہے، ان کا سب سے بڑا مسئلہ ابھی بھی جبری مشقت ہے۔ آپ نے ان کی داد رسی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟

رانا ہمیر سنگھ: نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے علاقے میں تو جبری مشقت کا تو کوئی تصور پہلے بھی نہیں تھا، البتہ سندھ کے دوسرے علاقوں کے کچھ ظالم زمیں دار اس قسم کی حرکتوں میں ملوث تھے، لیکن اب وہاں بھی جبری مشقت کا سلسلہ تقریبا ختم ہو چکا ہے۔

ایکسپریس: تھر میں بچوں کی اموات ایک سانحہ ہے، آپ اس بارے میں کیا کہیں گے، اس صورت حال کی کیا وجہ ہے؟

رانا ہمیر سنگھ: اب آپ کے پاس راستے ہیں، گاڑیاں ہیں، ایمبولینسز ہیں، اسپتال ہیں، اس کے باوجود تھر میں بچے مر رہے ہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ اب اس کی وجہ کیا ہے؟ جب ہمارا راج تھا، آٹھ سو نو سو سال ہم نے یہاں راج کیا ہے، اس وقت نہ ہمارے پاس پکے راستے تھے، نہ ڈاکٹر تھے، لیکن اس وقت ہمارے بچے نہیں مرتے تھے۔ آج آپ کے پاس سو فی صد ٹیکنالوجی ہے ہمارے وقت میں تو اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ کسی بچے کے مرنے کی وجہ یہی ہے کہ اس کی ماں صحت مند نہیں ہے۔ تھر میں بچے اس لیے مر رہے ہیں کہ ماں کی دیکھ بھال نہیں کی جا رہی، صحت مند بچے کے لیے ماں کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔

اور ماں کی دیکھ بھال ایک ماں ہی کر سکتی ہے، اسی لیے ہمارے یہاں ایک دائی ہوتی تھی یعنی عقل مند عورت اور ایک دھائی ہوتی تھی جسے ہم دایہ کہتے ہیں، خواتین سے متعلق ہر مسئلے میں تمام تر فیصلے دائی کیا کرتی تھی، اس میں کسی مرد کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ عورت عورت سے جو بات کرسکتی ہے وہ مرد سے نہیں کرسکتی۔ چائلڈ میرج اس وقت بھی ہوتی تھی، اب یہ بچوں کے مرنے کا الزام چائلڈ میرج کو دیتے ہیں۔ اس وقت لڑکی کے حاملہ ہوتے ہی اس کی غذا کا خیال رکھا جاتا تھا، بچہ پیدا ہونے کے بعد اسے الگ غذا دی جاتی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 1994ء میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام شروع کیا اور ہر تین ہزار پر خواتین ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو تعینات کیا، لیکن اب آپ انہیں تنخواہ تک نہیں دیتے اور آج بھی تھر کے جن علاقوں میں لیڈی ہیلتھ ورکر کام کر رہی ہیں وہاں بچوں کی شرح اموات صفر ہے۔

ایکسپریس: آپ کے دادا رانا ارجُن سنگھ نے 1946میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے کانگریس کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا، انہوں پاکستان مسلم لیگ کا ساتھ دینے اور اسلام کے نام پر بننے والی نوزائیدہ مملکت پاکستان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟

رانا ہمیر سنگھ: اس بات کو سمجھنے کے لیے پرانی تھرپارکر تحصیل کو سمجھنا ضروری ہے، پرانے تھرپارکر میں آج کا سانگھڑ ڈسٹرکٹ، میرپورخاص، امر کوٹ اور تھر شامل تھے، آج کا میرپورخاص ڈویژن پہلے تھرپارکر ڈسٹرکٹ کا حصہ تھا، جس کی پچاسی فی صد آبادی ہندو تھی۔ کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے انتخابات کی بنیادی فلاسفی یہ تھی کہ جہاں جہاں مسلم لیگ کی اکثریت جیتے گی وہ پاکستان کا حصہ ہوگا اور جہاں جہاں آل انڈیاکانگریس جیتے گی وہ ہندوستان کا حصہ بنے گا۔ کانگریس کا سیدھا دعویٰ یہ تھا کہ یہ ڈسٹرکٹ ہمیں ملنا چاہیے، یہ میرے پڑ دادا تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔

جب یہ بات جودھ پور، بالا میڑ، باٹھ، بیر بیکانیر کی ان ریاستوں کو پتا چلی جن سے ہمارے شادی بیاہ کے معلاملات تھے تو انہوں نے میرے دادا ارجُن سنگھ سے کہا کہ اگر آپ کو سیٹ کا شوق ہے تو وہ ہم آپ کو دے دیتے ہیں، یہ تو کل کو مسلمانوں کا ملک بننے والا ہے۔ جس پر میرے داد ا نے انہیں جواب دیا کہ آپ دو چیزیں بھول رہے ہیں اول، یہ کہ ہم ایک دوسرے کو بیٹیاں دیتے ہیں، رشتے داری نہیں ہے، رشتے داری میری ان سے ہے جو مجھے کندھوں پر اٹھا کر عزت دیتے ہیں، آپ یہ بھی بھول رہے ہیں کہ امر کوٹ کو ’گیٹ وے آف تھر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دریائے سندھ ختم ہوتا ہے اور تھر شروع، میں نے سندھ کا پانی پیا ہے، سندھ کا کھایا ہے، میری واسطے داری سندھ سے ہے اور میں ’فرزندِ زمین‘ ہوں، جہاں سندھ وہاں میں اور مجھے اس بات کی فکر نہیں کہ کہ وہ مسلمان ریاست ہے یا ہندو ریاست۔

ایکسپریس: آپ کے والد رانا چَندرا سنگھ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رکن بھی تھے تو پھر کن وجوہات کی بنا پر انہوں نے 1990میں پی پی پی کو چھوڑ کر پاکستان ہندو پارٹٰی کے قیام کا فیصلہ کیا؟ پاکستان ہندو پارٹی کے قیام کے اغراض و مقاصد کیا تھے ؟

رانا ہمیر سنگھ: اس وقت میرے پِتا کی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کے ساتھ ایک غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی۔ رانا چندرا سنگھ صاحب محترمہ کو اسی طرح مشورے دیتے تھے جس طرح وہ ذوالفقار علی بھٹو کو دیا کرتے تھے۔ میرے والد کا ان سے تعلق وزیراعظم اور رکن کا نہیں تھا وہ صرف عوام کے سامنے ہوتا تھا، وہ بھٹو کا ہاتھ پکڑ کر کہتے تھے کہ تم یہ کر کیا رہے ہو، یہ غلط ہے یہ صحیح ہے۔ جب ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل میں ڈالا تو سب سے پہلے میرے پِتا ان سے ملنے گئے اور بھٹو نے انہیں ایک خط دیا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پہلے دورحکومت میں ہی کچھ معاملات میں بدانتظامی شروع ہوگئی تھی، اس وقت قائم علی شاہ کو ہٹاکر آفتاب شعبان میرانی کو وزیراعلٰی بنایا گیا، میرانی صاحب نے ایک میٹنگ بلائی۔ رانا صاحب کے مطابق اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی میں دراڑ پڑ رہی تھی، وہ اس وقت کی حکومتی پالیسیوں پر بہت تنقید کرتے تھے۔

ان کی تنقید اس حد تک ہوگئی تھی کہ آفتاب شعبان میرانی نے میرے والد صاحب کو سبق سکھانے کی ہدایات جاری کردیں، جس کے بعد مجھے اپنی زمینوں سے اٹھاکر گڑھی یاسین تھانے میں بند کردیا گیا، مجھے تیرہ دن پابند سلاسل رکھا گیا اور مجھ پر گڑھی یاسین سے 7گائین چرانے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد معاملات اور بگڑ گئے۔ بے نظیر بھٹو کو یہ فیڈبیک دیا گیا کہ رانا صاحب کو پارٹی پالیسیوں پر سخت اختلافات ہیں، اس کے بعد رانا صاحب مسلم لیگ نواز میں چلے گئے۔ جہاں تک پاکستان ہندو پارٹی کے قیام کی بات ہے تو یہ پارٹی بنی ہی مذہب کی بنیاد پر تھی کیوں کہ اقلیتوں کے ووٹ ہی الگ کردیے گئے تھے جو فارم ہم بھرتے تھے اس پر صاف لکھا ہوا تھا کہ ’نام زدگی کا فارم صرف ہندو اور شیڈولڈ کاسٹ کے لوگوں کے لیے ہے‘ لہٰذا جب انہوں نے ہی ہمیں مرکزی دھارے سے توڑ کر ذات کی بنیاد پر تقسیم کردیا تھا تو پھر ہم نے بھی مذہب کے نام پر ایک نئی جماعت قائم کرلی۔

ایکسپریس: آپ اور آپ کے پِتا متعدد بار بار اقتدار میں رہے، لیکن آپ کے آبائی حلقے میں لوگ پیاس اور بھوک سے مرتے رہے، اس بارے میں کیا کہیں گے؟

رانا ہمیر سنگھ: میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا ہے کہ تھرپارکر 1997ء تک نو گو ایریا تھا اور وزیراعظم بھی فوج کی منظوری کے بنا ایک پتھر بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتا تھا تو پھر پھر میرے والد رانا چَندرا سنگھ یا میں کس گنتی میں تھے۔

ایکسپریس: گریجویٹ نہ ہونے کی وجہ سے آپ 2002کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے، اور 2013میں آپ نے اپنی جماعت پاکستان ہندو پارٹی کے بجائے پی پی پی کے چھے میں سے پانچ امیدواروں کو سپورٹ کیا، اس کی وجہ؟

رانا ہمیر سنگھ: 2013ء میں آج کے پیر پگارا نے مجھے بھارت سے بلوایا اور عام انتخابات میں فنکشنل لیگ کے پلیٹ فارم سے چناؤ لڑنے کا کہا۔ واضح رہے کہ تھر سے فنکشنل لیگ کا کوئی بھی امیدوار کبھی نہیں جیتا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ مجھے ٹکٹ دے رہے ہیں پھر میں جانوں اور میرا ڈسٹرکٹ جانے، کیوں کہ اس کے تمام تر فیصلے میں خود کروں گا اور اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔ ایسا نہ ہو کہ کل کو آپ ارباب غلام رحیم سے اتحاد کرکے کہیں کہ یہ حلقہ نہیں دیں گے یا وہ حلقہ نہیں دیں گے، پھر ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اور پھر وہی ہوا جو میں سوچ رہا تھا۔ راجا سائیں نے یونس سائیں کے ذریعے میرے پاس پیغام بھیجا کہ رانا صاحب آپ ہاتھ اٹھا لیں، ہماری ارباب غلام رحیم کے ساتھ سیٹلمنٹ ہوگئی ہے، اب آپ نمبر دو پوزیشن پر رہتے ہوئے ارباب غلام رحیم کو سپورٹ کریں۔ میں نے یونس سائیں سے کہا کہ میں نے پہلے ہی آپ لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ اگر میں ایک بار انتخابات میں کھڑا ہوگیا تو پھر پیچھے نہیں ہٹوں گا، اور اب ارباب غلام رحیم بیچ میں آگیا ہے تو پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ باتیں سُن کر یونس سائیں نے مجھ سے پوچھا کہ تم الیکشن لڑو گے؟ ٹرائی اینگل الیکشن لڑو گے؟ میں نے کہا ہاں بالکل لڑوں گا، جس پر یونس سائیں نے کہا کہ تم کیا سمجھتے ہوں کہ تم جیت جاؤں گے؟ میں نے جواب دیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں ارباب غلام رحیم کو پانچ سیٹوں پر شکست دوں گا، وہ صرف ڈیپلو کی ایک سیٹ ہی جیت سکے گا، باقی کی پانچ سیٹوں پر آپ جس کو کھڑا کردیں سب کو ہراؤں گا، اور پیر پگارا سے کہہ دیں کہ ’اگر میں نے ارباب غلام رحیم کو پانچ نشستوں پر نہیں ہرایا تو میں صرف سیاست نہیں بلکہ پاکستان ہی چھوڑ کر چلا جاؤں گا، یہ ایک راجپوت کا وعدہ ہے۔‘ ہم اپنے داد کے وقت سے انتخابات دیکھتے آئے ہیں، میرے داد ا نے اس وقت الیکشن لڑا جب پورا تھرپارکر ایک سیٹ تھا۔ ہمیں پتا ہے کہ بیلنس آف پاور کہاں کہاں ہے۔ پھر میں نے پیپلزپارٹی کو سپورٹ کیا، اور ان پانچوں نشستوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کام یاب ہوئی۔

ایکسپریس: آپ رانا آف ڈھاٹ کے چھبیسویں رانا ہیں، ایک رانا ہونے کی حیثیت سے آپ پر کیا ذمے داریاں عاید ہوتی ہیں۔ کیا آپ کے اس ٹائٹل کو کوئی آئینی و قانونی حیثیت حاصل ہے؟

رانا ہمیر سنگھ: جب میں خود کو رانا آف ڈھاٹ کہتا ہوں تو اس میں کوئی رنگ و نسل، ذات پات نہیں ہے، ڈھاٹ کے علاقے میں رہنے والے راجپوت تو میرا اپنا ہی خون ہیں، لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی قوم ایسی نہیں ہے جس کا پگ دان میری پگ میں نہیں ہیں، رانا کا مطلب ہے ’عوام کے لیے۔‘ ہماری روایات میں ایک کوٹری سٹم ہے، کوٹری صرف ایک رانا کی ہوتی ہے، ہر تعلقے میں میری ایک کوٹری ہے۔ کوئی اور دوسرا اس نام کو استعمال نہیں کرسکتا۔ ہندو ٹھاکر مہمان خانے کے لیے ’ اوتارا‘ اور مسلمان اس کے کے لیے ’اوطاق: کا لفظ استعمال کرے گا۔ کوٹری ایک طرح کا مہمان خانہ ہوتا ہے جس میں میرا خاندان تو رہائش اختیار نہیں کرسکتا لیکن اس کے علاوہ دوسروں کے لیے چوبیس گھنٹے کھانا پینا رہائش سب مفت ہوگی۔ اپنے لوگوں کے کورٹ کچہری اور زمینوں کے مسائل بلامعاضہ حل کروانے کے لیے میں نے اپنی کوٹری میں ایک وکیل، ایک پولیس والا اور ایک ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کا بندہ رکھا ہوا ہے، جو 24گھنٹے کوٹری میں رہتے ہیں، کورٹ کچہری، پولیس اور زمینوں کے مسائل میں مفت میں حل کرواتا ہوں۔ ہر کوٹری میں رانا کا چولہا بلاامتیاز سب کے لیے چوبیس گھنٹے جلتا رہتا ہے، یہ کبھی بجھتا نہیں ہے۔

میں خود اپنی کوٹری میں جاکر وہی کھاتا ہوں جو دوسروں کے لیے بنتا ہے۔ ہر راجپوت الگ الگ رانا ہوتا ہے، میں پاکستان میں اپنے خاندان کا رانا آف ڈھاٹ ہوں، میں راجپوتوں کی نسل پرمان ونش کا ہوں، جس کی جاتی کا آغاز راجا وکرم ادیتی سے ہوتا ہے۔ رانا کو جو لقب میں لگاتا ہوں وہ لقب مجھے سندھ دھرتی میں آنے کے بعد ملا ہے۔ اس سے پہلے باڑمیر میں راؤ کا لقب تھا، وہاں کے راؤ چچل تھے جن کے سات بھائی تھے جن میں سے ایک بھائی ’سودھا‘ بہت جری اور بہادر تھا، جس کی جرأت کو دیکھتے ہوئے بڑے بھائی راؤ چچل نے انہیں ایک الگ راج دے دیا، جس کے بعد انہوں نے کھپرو کے پاس رتہ کوٹ میں اپنی رہائش اختیار کرکے رتہ کوٹ اور امرکوٹ حاصل کیا، جب کہ راؤ چچل نے دوسرے بھائی کو نگر بھیجا جہاں وہ بھی رانا کہلائے۔

ایکسپریس: آپ کے ایک اور پُرکھ رانا رتن سنگھ نے چار سال تک برطانوی فوج کو امر کوٹ اور تھرپارکر میں داخل نہیں ہونے دیا اور مستقل لڑائی کی، جس جرم میں انہیں میخ پر چڑھادیا گیا۔ اس بارے میں کچھ بتائیے؟

رانا ہمیر سنگھ: انگریزوں نے اس دور مین ویلتھ ٹیکس نافذ کیا، اس وقت ہماری دولت عورتوں کے زیورات کی شکل میں بھی ہوتی تھی۔ جب یہ ٹیکس نافذ ہوا تو رانا تن سنگھ نے انگریزوں سے کہا کہ ’ہم اپنی عورتوں کے زیور کا ٹیکس آپ کو نہیں دیں گے دیگر ٹیکس ہم خود وصول کرکے آپ کے حوالے کریں گے، اس کام کے لیے کوئی انگریز ہمارے پاس نہیں آئے گا، برطانوی حکومت نے رانا رتن سنگھ کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایک ٹیکس کلیکٹر کو امر کوٹ روانہ کردیا۔ رانا رتن سنگھ نے اس ٹیکس کلیکٹر کو قتل کردیا، جس کے بعد انگریزوں اور ہمارے پُرکھوں کے درمیان ایک طویل لڑائی ہوئی۔ انگریزوں نے امرکوٹ ریاست پر قابض ہوکر اسے حکومتی تحویل میں لے لیا، سارے راجپوت سرداروں کو پونا جیل میں قید کردیا اور رانا رتن سنگھ کو پھانسی دے دی۔

ایکسپریس : جب شیر شاہ سوری نے مغل بادشاہ ہمایوں کوتخت سے محروم کردیا تو آپ کے آباؤ اجداد رانا پرساد نے ہمایوں کو پناہ دی۔

رانا ہمیر سنگھ: ہمایوں نے دلی سے فرار ہونے کے بعد راجپوتوں کے سارے رجواڑے پار کیے لیکن شیر شاہ سوری کے ڈر سے کسی نے اس کو پناہ نہیں دی، لیکن جب وہ امر کوٹ آیا تو امر کوٹ کے رانا پرساد نے اسے پناہ دی، کیوں کہ ہماری روایت ہے کہ اگر دشمن بھی ہماری پناہ میں آجائے تو ہم اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں، لیکن اس پر ایک آنچ نہیں آنے دیتے ۔ میرے پُرکھ رانا پرساد نے ہمایوں کو اس کے خاندان کے ڈھائی سو افراد کے ساتھ چھے ماہ تک اپنے پاس رکھا۔ اسی عرصے میں اکبر کی پیدائش بھی ہمارے قلعے میں ہی ہوئی۔ اور چھے ماہ بعد ہماری فوجوں نے ہمایوں کو اپنے حصار میں لے کر دریائے سندھ پار کروایا۔

Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here