Home Authors Posts by HairStyleBy

HairStyleBy

576 POSTS 0 COMMENTS

سرمایہ کاروں کو بزنس ویزا کیلیے درپیش مشکلات ختم کرنے کا فیصلہ

0

چند روز قبل امریکی بزنس مین کو تمام دستاویزات کے باوجود ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا، شفٹ انچارج کو عہدے سے ہٹا دیا، عبدالرؤف شیخ
 فوٹو:فائل

چند روز قبل امریکی بزنس مین کو تمام دستاویزات کے باوجود ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا، شفٹ انچارج کو عہدے سے ہٹا دیا، عبدالرؤف شیخ
فوٹو:فائل

کراچی:  ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت پاکستان میں کاروبار کیلیے سازگار ماحول اور بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو بزنس ویزا کے حصول میں درپیش مشکلات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور امیگریشن عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بزنس ویزا کے اجرا میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو بزنس ویزا کی سہولت کے اجرا کے بعد امیگریشن کراچی کے چند افسران غیرملکی سرمایہ کار اور ان کے میزبان کاروباری اداروں کو بلاضرورت تنگ کررہے تھے جس پر ایف آئی اے امیگریشن (آمد) کے انچارج اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالرؤف شیخ نے کارروائی کرتے ہوئے شفٹ انچارج انسپکٹر زرینہ اسحاق کو ان کے عہدے سے ہٹادیا ہے اور احکام جاری کیے ہیں کہ بزنس ویزا کے حصول کو آسان بنایا جائے تاکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔

عبدالرؤف شیخ نے ایکسپریس کو بتایا کہ امریکی بزنس مین نبیل پینیسا کچھ دن قبل کراچی ایئرپورٹ پہنچے تھے جبکہ امیگریشن کے عملے نے ان کی میزبان کمپنی کی جانب سے تمام قانونی دستاویزات فراہم کیے جانے کے باوجود انھیں ویزا جاری نہیں کیا اور جب اس معاملے پر امیگریشن کے اعلی حکام نے مداخلت کی تو متعلقہ شفٹ انچارج نے امریکی بزنس مین کو بزنس ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا جس پر شفٹ انچارج کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی بزنس مین پاکستان میں 20 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی پاکستان آمد کا مقصد بھی یہی تھا تاہم امیگریشن کا عملہ روایتی طور پر ویزا کے اجرا میں تاخیری حربے استعمال کررہا تھا، انھوں نے بتایا کہ امریکی بزنس مین اور ان کی میزبان پاکستانی کمپنی نے امیگریشن کے عملے کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی تحریری شکایت بھی کی ہے۔

Source link

آسان بیان القرآن – ایکسپریس اردو

0

اردو زبان میں قرآن مجید کی مستند، مختصر اور جامع تفسیروں میں دو تفسیروں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایک ’’بیان القرآن‘‘ جو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی تالیف ہے اور دوسری ’’تفسیر عثمانی‘‘ جو علامہ شبیر احمد عثمانی کی لکھی ہوئی ہے۔ان دونوں تفسیروں سے ایک ساتھ استفادہ کرنے کے لیے مولانا عمر انور بدخشانی نے ’’آسان بیان القرآن‘‘ کے عنوان سے ایک تفسیر مرتب کی ہے۔ اس میں ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب کا ہے۔

مولانا عمر انور بیان کرتے ہیں کہ مادر علمی جامعہ علوم اسلامیہ ، بنوری ٹاؤن، کراچی میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں انھوں نے والد مولانا محمد انور بدخشانی اور اپنے اساتذہ سے بار بار یہ سنا کہ اردو میں ’’ بیان القرآن‘‘ اور ’’ تفسیر عثمانی‘‘ کو ہمیشہ مطالعے میں شامل رکھنا چاہیے۔ مولانا انور بدخشانی جو ان دنوں قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ اور تفسیر لکھ رہے تھے، فرماتے تھے کہ قرآن کریم کے بہت سے مشکل مقامات پر کئی عربی تفسیروں کے مطالعے کے بعد جب وہ بیان القرآن یا تفسیر عثمانی کو دیکھتے ہیں تو ان میں بہت مختصر اور جامع تعبیر میں انھیں وہ بات مل جاتی ہے جو دیگر تفاسیر میں طویل عبارتوں میں بیان ہوئی ہے چنانچہ انھیں خیال آیا کہ تفسیر عثمانی کو عام فہم اور آسان انداز میں مرتب کرکے پیش کیا جائے تاکہ مطالعہ کرنیوالے کو آیت کے ترجمے کے ساتھ تفسیر بھی مل جائے اور یکسوئی سے قرآن کریم کے مطالب ذہن نشین ہوجائیں۔ انھوں نے اپنے اساتذہ اور ساتھیوں سے مشورہ کیا اور اللہ کا نام لے کر یہ کام شروع کردیا۔

مولانا عمر انورکہتے ہیں ’’دیگر مصروفیات کے ساتھ جیسے جیسے موقع ملتا میں یہ کام ازخود کمپیوٹر پر کرتا رہا۔ الحمد للہ تین ساڑھے تین سال کے عرصے میں ’’ تفسیر عثمانی‘‘ کی ترتیب نوکا کام مکمل ہوگیا۔ ساتھیوں کا اصرار تھا کہ اسے شایع کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے دل میں یہ بات ڈالی کہ تفسیر عثمانی کے ساتھ حضرت تھانوی ؒ کی شہرہ آفاق تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ کے ترجمے اور تفسیری فوائد کو بھی آسان زبان میں ڈھال کر ساتھ ہی شامل کردیا جائے۔

اس طرح اردو زبان کے دو مستند و مقبول ترجموں اور تفسیروں سے ایک ساتھ استفادہ آسان ہوجائے گا۔ چنانچہ دسمبر 2012 میں مدینہ طیبہ میں ’’بیان القرآن‘‘ کے خلاصہ تفسیر کو آسان زبان میں منتقل کرنا شروع کردیا۔ جب یہ کام بھی مکمل ہوگیا تو ’’آسان بیان القرآن‘‘ کے عنوان سے اس کی اشاعت عمل میں آئی۔ ’’آسان بیان القرآن‘‘ میں ’’تفسیر عثمانی‘‘ کو مکمل شامل کیا گیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی لفظی تبدیلی یا کمی نہیں کی گئی ہے۔ البتہ ’’بیان القرآن‘‘ میں چونکہ بہت سے مقامات پر دقیق عربی الفاظ اور مختلف فنون کی علمی اصطلاحات زیر استعمال تھیں جن کی وجہ سے اب ان کا سمجھنا عام قارئین کے لیے مشکل ہوگیا تھا اس لیے اسے آسان اردو میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس اشاعت میں تفسیر بیان القرآن کے خاص اس حصے کو مدنظر رکھا گیا ہے جس کا تعلق عوام سے ہے۔ کیوں کہ اس تفسیر کا بڑا حصہ وہ ہے جس کا تعلق خواص اہل علم اور علما کرام سے ہے اور وہ عربی زبان میں ہے۔

تفسیر بیان القرآن کا ایک خاص وصف سورتوں اور آیات کے درمیان نظم یعنی ربط و مناسبت کا اہتمام ہے چنانچہ خلاصہ تفسیر کے عنوان سے آیت کے ترجمے اور تفسیر سے پہلے آیت کا ماقبل سے ربط بھی آسان زبان میں کردیا گیا ہے۔ ربط آیات کے علاوہ سورتوں کے درمیان ربط کا بھی مولانا تھانویؒ نے بھی اہتمام فرمایا ہے۔ چونکہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے بسا اوقات ترجمہ کافی نہیں ہوتا اس لیے حضرت نے ترجمہ کے ساتھ قوسین میں کچھ تشریحی الفاظ یا جملے بڑھا کر قرآن کریم کے مضامین کی عمدہ وضاحت فرمائی ہے۔ البتہ قرآنی آیات کے ترجمے میں احتیاط اور امتیاز کے پیش نظر اسے خط کشیدہ بھی رکھا ہے جو ترجمہ کی علامت ہے۔ چنانچہ اس مجموعہ ’’آسان بیان القرآن‘‘ میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ خط کشیدہ الفاظ میں ترجمہ قرآن ہے اور قوسین میں اس کی تفسیر ہے۔ ’’تفسیر بیان القرآن‘‘ میں ایک مستقل سلسلہ اخلاق و سلوک کے مسائل کا ہے یعنی جن آیات میں تزکیہ و اخلاقیات کا مسئلہ ہوتا ہے وہاں اس کی وجہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ’’آسان بیان القرآن‘‘ میں تزکیہ و اخلاق کے ان مسائل کو بھی آسان اور مختصر الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

مولانا عمر انور کی ’’بیان القرآن‘‘ اور ’’تفسیر عثمانی‘‘ کو ایک جگہ جمع کرنے کی اس کوشش پر مولانا محمد انور بدخشانی نے تبصرہ فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی یہ کہ ’’آسان بیان القرآن‘‘ صرف تین جلدوں میں اردو کی دو اہم اور مستند تفسیروں پر مشتمل ہے۔ دوسری یہ کہ اس میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کا مکمل ترجمہ قرآن شامل ہے اور تیسری اور اصل بات یہ کہ اس میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر کو آسان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے جو اس وقت کی ایک انتہائی اہم ضرورت تھی۔ ایک اور بات اس مجموعہ کی یہ بھی ہے کہ اس میں قرآن کریم کی دو تفسیروں کو یکجا کردیا گیا ہے لیکن امتیاز اور فصل کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس سے مجموعہ کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے اور تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ سہولت اور آسان ہوگئی ہے کہ انھیں قرآن مجید کے دو ترجمے اور دو تفسیریں مطالعے میں ایک ساتھ مل جائیں گی۔

تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ لکھنے کے دوران جن امور کی لازمی رعایت رکھی گئی تھی ان کا ذکر کرتے ہوئے حکیم الامت فرماتے ہیں ’’سب مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنے رب کو پہچانیں اور اس کی صفات اور اس کے احکام کو معلوم کریں اور تحقیق کریں کہ حق تعالیٰ کون سی باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کون سی باتوں سے ناراض۔ اس کی خوشی کے کاموں کو کرنا اور اس کی ناخوشی کے کاموں سے بچنا، اسی کا نام بندگی ہے اور جو بندگی نہ کرے وہ بندہ نہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے سب چیزوں سے ناواقف اور انجان ہوتا ہے۔

پھر سکھلانے سے سب کچھ سیکھ لیتا ہے اور بتلانے سے ہر چیز جان لیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا پہچاننا اور اس کی صفات اور احکام کا جاننا بھی بتلانے اور سکھلانے سے آتا ہے لیکن جیساکہ حق تعالیٰ نے ان باتوں کو قرآن شریف میں خود بتلایا ہے وہ کسی کے کلام میں نہیں۔ اس لیے عام و خاص تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے درجے کے مطابق کلام اللہ کو سمجھنے میں کوتاہی اور غفلت نہ کریں۔

سو قرآن شریف کے اوپر کے درجے کے مطالب اور خوبیاں تو عالموں کے سمجھنے کی بات ہے مگر جو لوگ علم عربی سے ناواقف ہیں ان کو بھی کم سے کم اتنا تو ضرور کرنا چاہیے کہ علمائے دین نے جو سلیس ترجمے ان کی زبان میں عوام کی واقفیت اور ہدایت کے لیے کر دیے ہیں، ان کے ذریعے سے اپنے معبود حقیقی کے کلام کو سمجھنے میں ہرگز کاہلی نہ کریں اور اس نعمت لازوال سے بالکل محروم نہ رہیں کہ یہ بہت بڑی بدبختی اور بدقسمتی ہے۔ اس میں یہ اندیشہ ضرور ہے کہ فارسی خواں یا اردو داں جو محاورات عرب سے ناواقف ہے سلیس ترجمہ دیکھ کر کچھ کا کچھ نہ سمجھ جائے۔ اس لیے لازم ہے کہ استاد سے سیکھنے میں کاہلی اور کوتاہی نہ کریں اور محض اپنی رائے پر اعتماد کرکے ثواب کی بجائے اللہ کا غصہ نہ کمائیں۔

Source link

اِدھر اُدھر سے – ایکسپریس اردو

0

ہندوستان میں جب سے مذہبی انتہا پسندی انتہا کو پہنچی ہے توکچھ ترقی پسند لبرل اور سیکولر خیالات کے حامل پڑھے لکھے افراد جن میں پروفیسرز، ادیب و شاعر، صحافی اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد (اداکار، فلم ساز، کہانی نگار وغیرہ) واضح یا ڈھکے چھپے الفاظ، بیانات وغیرہ میں اس صورتحال کو نہ صرف ہندوستان بلکہ انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ برسر اقتدار سیاسی پارٹی کے مخالف انتہا پسندی کے عروج کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر حکمرانوں اور ایوان کے کردار پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں حتیٰ کہ کانگریس نے تو اس عمل کو بھارتی آئین کا قتل قرار دے دیا ہے۔

یہ تو ایک خاص طبقے یعنی صاحب الرائے افراد کا ردعمل ہے مگر یونینوں، کالجوں کے طلبا بھی بطور ردعمل کچھ نہ کچھ متحرک ہیں۔کچھ ماہ قبل (مسئلہ کشمیر کی نئی صورتحال سے پہلے) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں کچھ نوجوان اورکچھ درمیانی عمرکے راہگیر بھی شامل تھے اور ایک طالبہ کلمہ حق (کلمہ طیبہ) پر پرجوش انداز میں اظہار خیال فرما رہی ہیں۔ مجمع اللہ اکبر کے نعرے بھی لگا رہا ہے وہ طالبہ اس قدر فصیح و بلیغ الفاظ میں اللہ کی وحدانیت بیان فرما رہی ہیں کہ سن کر یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ یہ ساری تقریر انھیں بڑی محنت و توجہ سے رٹوائی گئی ہے سب بڑے غور سے سن رہے ہیں نہ کوئی مخالفت نہ کوئی ردعمل ظاہر کر رہا ہے نہ سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ لاحق ہے، نہ کوئی انتہا پسند انھیں روکنے کے لیے مارنے پیٹنے کی طرف مائل نظر آرہا ہے جب کہ آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں بلکہ آ رہی ہیں کہ مسلمان نوجوانوں، بوڑھوں اور خواتین سے زبردستی ہندوانی نعرے لگوائے جاتے ہیں انکار یا پس و پیش پر اس قدر تشدد کیا جاتا ہے کہ پٹتے پٹتے وہ شخص ختم ہو جاتا ہے مگر انتہا پسندوں کا جی نہیں بھرتا۔

عید قرباں پر ایک اور ویڈیو بھارت کے شہر مرادآباد کی وائرل ہوئی ہے جس میں ایک لڑکی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے گلے مل کر عید کی مبارکباد دے رہی ہے اس منظر کے ساتھ جوکومنٹری کی جا رہی ہے اس میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اظہار یکجہتی کی آڑ میں اسلام کی (معاذ اللہ) توہین اور مذاق اڑایا جا رہا ہے ویڈیو تو آپ میں سے بیشتر نے دیکھ ہی لی ہوگی، نماز عید کے بعد یہ صاحبہ لوگوں کو تین بار گلے لگا کر اور پھر مصافحہ کرتی ہیں۔ ان سے عید ملنے کے امیدواروں کی لمبی قطار ہے جس میں نوجوان، بچے اور کچھ بوڑھے بھی شامل ہیں۔ عید ملتے اور ہاتھ ملاتے ہوئے پوری توجہ کیمرے کی طرف بھی ہے۔

تو اب یہ عمل جس کو اسلام کی توہین اور مذاق بنانا قرار دیا گیا ہے اور اسلام کے خلاف سازش بھی تو کیا اس سب کا سہرا ان محترمہ کے سر جاتا ہے یا ان حضرات کے جو نماز عید کے بعد ان سے (ایک نامحرم خاتون سے) گلے مل رہے ہیں، ہاتھ ملا رہے ہیں اور بصد شوق پوری توجہ سے ویڈیو بنوا رہے ہیں۔ وہ طالبہ تو اپنی جانب سے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی ہی فرما رہی ہیں اور اپنے صاحبان اقتدار کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں آپ بلاوجہ ملک کی فضا بگاڑ رہے ہیں، الزام ہم مسلمانوں کو بھی نہیں دے سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں وہاں رہنا ہے تو جینے اور رہنے کے لیے بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا قبل اس کے کہ انھیں مکمل طور پر ہندو بننے پر مجبور کیا جائے۔ رہ گئی یہ بات کہ یہ سب سازشیں ہیں جن سے اسلام کو خطرہ ہے، تو ایسی باتوں سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ دین اسلام کی حفاظت خود رب کائنات فرما رہے ہیں، خطرہ ہے تو ان تنقید کاروں سے جو حالات کا پس منظر جانے بنا، مجبوری اور صورتحال کو سمجھنے کی بجائے صرف دین خدا کو خطرے میں محسوس کرتے رہتے ہیں۔

اس بارعیدالاضحیٰ سے قبل بارشوں کے باعث خدشہ تھا کہ پہلے کی نسبت کچھ زیادہ ہی بدنظمی ہوگئی اور آلائشیں کئی روز تک نہ اٹھائی جاسکیں گی، مگر (پورے کراچی کا تو کہہ نہیں سکتے) ضلع شرقی میں ہماری حد نظر تک اپنے ارد گرد کے علاوہ اور جگہ بھی جہاں ہم گئے صفائی کا معقول انتظام نظر آیا۔اس سلسلے میں اس علاقے کے لوگوں کو بھی بلدیہ شرقی کے چیئرمین معید انورکی تعریف کرتے اور ان کی مثالی کارکردگی کو سراہتے سنا ہم نے خود بھی جہاں تک ممکن ہوا بلدیہ شرقی میں گھوم پھر کر دیکھا کہ آلائشیں بروقت اٹھا لی گئیں اور گلیاں سڑکیں فوراً ہی صاف کردی گئیں۔

ہمارے محلے بلکہ گلی میں پہلے ہی دن تقریباً سب گھروں میں قربانی ہوئی، پوری گلی میں خون اور آلائشیں پڑی تھیں اور ہم سوچ رہے تھے کہ اب جب کہ زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر کچھ گھنٹے یہ سب یوں ہی پڑا رہا تو تعفن کے علاوہ وبائی امراض پھیلنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں تو آخر ہر گلی کے رہائشی ایک بڑا گڑھا کھود کر اپنے اپنے جانوروں کو اسی گڑھے پر لکڑی کا تختہ رکھ کر باری باری کیوں ذبح نہ کرلیں تاکہ تمام خون اور آلائشیں اس میں دفن کردی جائیں مانا کہ صفائی حکومتی اور بلدیاتی اداروں کا کام اور ذمے داری ہے مگر کیا بطور مہذب شہری ہماری اپنی کوئی ذمے داری نہیں ہے؟ مگر کچھ دیر بعد جاکر دیکھا تو پوری گلی صاف ہوچکی تھی اور تمام آلائشیں اٹھائی جا چکی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ کم ازکم ہمارے علاقے میں (پورے ضلع شرقی کے ہم چشم دید گواہ نہیں) تو یوسی چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں نے چیئرمین بلدیہ شرقی معید انور کی زیر نگرانی بے مثال اور بروقت صفائی کا کام سرانجام دیا۔ خدا کرے آیندہ اس سے بھی بہتر اور تیز رفتاری سے کام ہو اور ہم سب کو بہترین شہری ہونے کا احساس بھی ہو۔

عید کی چھٹیوں کے باعث تین دن اخبار نہ پڑھنے سے یوں لگا کہ ہمارا رابطہ شاید دنیا سے منقطع ہوگیا ہے کہ دوسرے ذرایع ابلاغ بطور خاص ٹی وی چینلز کے سامنے تو عام دنوں میں بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا بھلا کسی تہوار کے دنوں میں کیا موقع ملتا۔ پس ان تین دنوں میں ایک (کم ازکم دوکالمی) تصویر اور تین چارکالمی خبر نہ پڑھنے کا ایسا قلق رہا کہ مت پوچھئے۔

شاہ محمود قریشی تو قومی زبان کا استعمال کرکے بہترین انداز گفتگو کے ذریعے خاصی عقلی اور معلوماتی باتیں کرکے لوگوں کو بات سننے پر مجبور نہیں بلکہ آمادہ کرلیتے ہیں۔ رہ گئیں ایک وزیر صاحبہ، اول تو قومی زبان کی مظلومیت (ہمارے ماڈرن پاکستانیوں کے باعث) پر مہر تصدیق ثبت کردیتی ہیں اور پھر سب کچھ سن کر (پڑھ کر بھی) پتا ہی نہیں چلتا کہ موضوع گفتگوکیا ہے؟

وہ جب ایک دوسری سیاسی جماعت میں تھیں تو ٹی وی کا وہ منظر نہیں بھولتا جب وہ رو رو کر وزیراعظم صاحب کو اپنا استعفیٰ پیش کرکے اس کو منظور کرنے کی استدعا فرما رہی تھیں کہ ’’جی مجھے بولنا نہیں آتا، لوگ میرا مذاق بناتے ہیں بس اب میں مزید کام نہیں کرسکتی۔‘‘ پی پی پی کے ہر جائز و ناجائز عمل کی تعریف، حمایت اور طرف داری موصوفہ یوں ہی کرتی تھیں جیسے اب پی ٹی آئی کی کر رہی ہیں۔ یعنی سچی تے وڈی عاشق حکمران جماعت کی۔ اخبار پر پہلی نظر پڑتے ہی اگر دو کالمی تصویر (عموماً پریس کانفرنس کی) اور تین کالمی خبر یا بیان نظر نہ آئے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ جاتا ہے مگر ذرا بغور دیکھ کر کچھ نیچے یا سائیڈ پر دونوں خبریں مل جاتی ہیں تو دل دوبارہ دھڑکنے اور سانس بحال ہونے لگتی ہے کہ ماشا اللہ اپنی جگہ موجود ہیں خدانخواستہ پارٹی بدرکی گئیں اور نہ ہوئیں۔

Source link

انسانی حقوق کا مقدمہ – ایکسپریس اردو

0

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مقدمہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر دنیا بھر میں مزاحمت ہو رہی ہے۔بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی حکومت کے خلاف جو آوازیں اٹھیں ان میں خود بھارت بھی شامل تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری سیاسی جدوجہد نے ایک عالمی سیاسی حیثیت اختیار کرلی ہے۔اقوام متحدہ ، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومین رائٹس واچ سمیت کئی عالمی اداروں کی 2017-19ء جاری کردہ رپورٹس میں واضح طورپر تسلیم کیا گیا کہ بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس نے عالمی دنیا میں انسانی حقوق سے جڑے اداروں، پارلیمنٹ میں موجود ممبران، میڈیا اور عوامی رائے عامہ پیدا کرنے والے عناصر کو مجبور کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے جڑی پامالی پر خاموش رہنے کے بجائے اپنی آواز اٹھائیں۔

مودی حکومت کی سب سے بڑ ی سیاسی پسپائی یہ ہی ہے کہ اس کا مقدمہ اب دنیا سننے کو تیار نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی ایک ایسا بنیادی نکتہ ہے جس پر عالمی دنیا کی حمایت حاصل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ پاکستان سیاسی اور سفارتی محاذ پر جو بڑی ڈپلومیسی کی جنگ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں لڑنے کی جو کوشش کررہا ہے اس میں بھی ایک بنیادی نکتہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہے ۔ بچے، بچیاں، نوجوان، عورتوں اور بوڑھوں کے ساتھ جو کچھ بھارت  کشمیر میں کر رہا ہے وہ دنیا کا ضمیر جنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ عملی طور پر بھارت کی ریاست نے مقبوضہ کشمیر میں سخت مارشل لا نافذ کردیا ہے ا ور کوئی رعائت دینے کے لیے تیار نہیں۔ سید علی گیلانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کشمیروں کی نسل کشی کا منصوبہ رکھتا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے بقول اگر عالمی دنیا نے اس اہم او رنازک مرحلہ پر اپنا کردار ادا نہ کیا توکیا وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی نسل کشی دیکھتی رہے گی۔

مسئلہ محض پاکستان کے موقف کا نہیں بلکہ عالمی دنیا سے جڑا میڈیا اورانسانی حقوق سے وابستہ اداروں کی اپنی رپورٹس بتارہی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا معاملہ کتنا سنگین نوعیت کا ہے۔ اس موقع پر کشمیروں میں اور زیادہ شدت پیدا کرنے یا ان میں نفرت یا بغاوت کو پیدا کرنے کے بجائے ان کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ اگر مقبوضہ کشمیر میں جاری یہ ظلم و ستم ختم نہ ہوا تو وہاں سے جو آگ اٹھے گی اس کو روکنا بھارت سمیت کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور اس صورتحال کی ذمے داری بھی عالمی دنیا کی خاموشی پر ہوگی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا عمل اس وقت سامنے آتا ہے جب آپ لوگوں کے بنیادی سیاسی اور سماجی حقوق دینے سے انکار کردیں اور حقوق کا مطالبہ کرنے پر سیاسی انداز کے بجائے طاقت او ربندوق کا استعمال کرکے اس آواز کو دبانے کی کوشش کریں ۔ یہ ہی کچھ اس وقت بھارت میں ہورہا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا او ربھارتی اقدامات کو کشمیریوں کی حمایت حاصل ہوتی تو وہاں عملا مارشل لا نہ ہوتا ۔

بھارت کی معروف انسانی حقوق کی عالمی رہنما ارون دتی رائے نے اپنے ایک مضمون میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر چار اہم نکات اٹھائے ہیں جو قابل غور ہیں۔ اول وادی کشمیر کو بھارت کی ریاستی اقدامات نے ابوجیل بنادیا گیا ہے او راگر وادی سے تشدد پھوٹا تو تشدد کی یہ لہر ملک کے چاروں اطراف پھیلے گی۔ دوئم مودی حکومت کے حالیہ اقدامات نے بارود کے ڈھیر میں ایک ایسی چنگاری بھڑکادی ہے جو وہاں کے پرامن سیاسی حل کے خلاف ہے ۔ سوئم بی جے پی اور آرایس ایس ہر گزرتے دن کے ساتھ اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرے گی او رجلد ہی یہ اس مقام پر پہنچ جائے گی جہاں یہ خود ریاست بن جائے گی۔ چہارم مودی حکومت کے اقدامات بڑی تیزی سے بھارت میں ہندواتہ کی سیاست او رمقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے نتیجے میں بھارتی ریاست پر گھمبیر اثرات او ربھارتی ریاستی پالیسیوں میں ہندو انتہا پسندی کے بڑھتے اثرورسوخ سیکولر ریاست کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ پنجم مودی حکومت کی کوشش ہوگی وہ اپنی انتہا پسند پالیسیوں کو بنیاد بنا کر معاشرے کے لبرل ، سیکولر او ر دانشور طبقہ کو بے دخل کرکے دیوار سے لگائے ۔

عالمی میڈیا میں بھی مودی اقدامات کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ عالمی دنیا کے میڈیا نے نریندر مودی کو بھارت کا ہٹلر قرار دیا ہے او ران کے بقول مودی کے اقدامات کو بھارت کو تقسیم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں او رمودی کو بھارت کے انتہا پسندوں کا سرغنہ بھی کہا گیا ہے ۔ اگرچہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حالیہ اقدامات کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے ،لیکن انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر کوئی اسے اندرونی مسئلہ ماننے کے لیے تیار نہیں اور سب بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور لوگوں کو وہ بنیادی حقوق فراہم کرے جو بھارتی آئین او رعالمی انسانی حقوق کی پاسداری کے زمرے میں آتے ہیں ۔ یہاں ہمیں بھارت کے اندر موجود ان متبادل آوازوں کو بھی داد دینی ہوگی جو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے مدنظر خاموش رہنے کے بجائے سڑکوں پر باہر نکلے ہیں اور مختلف انداز میں اپنا اپنا مزاحمتی پن پیش کررہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی نے بھی اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی گلیاں خاموش ہیں اور لوگوں کا غصہ بول رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کشمیر ایک غیر فعال آتش فشاں ہے اور اسے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہے اور حالیہ مزاحمت ماضی کی تمام مزاحمتوں سے بڑی مزاحمت ہوگی ۔

جس انداز سے برطانیہ ، اٹلی ، امریکا ، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، بیلجیم، جاپان، اسپین ، جرمنی میں بھارت مخالف مظاہرے ہورہے ہیں اور دنیا بھر کے پارلیمنٹ کے ارکان اقوام متحدہ کو خطوط لکھ رہے ہیں اور جو انداز انسانی حقوق سے جڑی تنظیموں نے اختیار کیا ہے اس نے واقعی اس وقت بھارت کی حکومت کو عالمی دنیا میں سیاسی طو رپر تنہا کیا ہے ۔ یہ جو حکمرانوں کی سطح پر عالمی خاموشی ہے یہ زیادہ دیر نہیں رہے گی کیونکہ جو عالمی بیداری مقبوضہ کشمیر کے حق میں اٹھ رہی ہے اسے روکنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔اس وقت زبردست ماحول ہے او رہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو عالمی دنیا میں ایک بڑی انسانی حقوق کی پامالی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ کام سیاسی طو رپر تنہائی میں نہیں ہوگا اس کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو رائے عامہ کو بیدار کرنے اور ریاستوں پر دباو بڑھانے کے لیے ایک ایمرجنسی انسانی حقوق کی پامالی کے تناظرمیں ڈپلومیسی جنگ کو طاقت دینی ہوگی ۔ تاکہ اس کارڈ کی مدد سے بھارت کو سیاسی طو ر پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تنہا کیا جائے اور دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ انتہا پسندی اورانسانی حقوق کی پامالی کے کھیل کو بند کرے۔

Source link

شملہ معاہدے کا مستقبل ؟

0

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت  ختم کرنے کے بعد پاکستان کی درخواست پراقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پچاس سال بعد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا کشمیر پر اجلاس پاکستان کی سفارتی فتح ہے۔ پاکستان نے کامیاب سفارتکاری سے مسئلہ کشمیر بین الا قوامی سطح پر اجاگر کر دیا ہے اور اب یہ دوبارہ عالمی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔لہذا سیکیو رٹی کونسل کا اجلاس ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔اجلا س کے بعد چینی مندوب کی گفتگو پاکستانی موقف کی کھلی حمایت ہے۔ اقوام متحدہ کی نیوز ایجنسی نے بھی تصدیق کہ اجلاس کشمیر کے بارے میں تھا ۔ یہ بھی ہماری جیت ہے۔

ادھر بھارت کا موقف بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بھارت کا موقف درست ہے۔ لیکن بھارت کا موقف سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ اس کا بھی توڑ کیا جا سکے۔ بھارت کا پہلا موقف تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کی کوئی مذمت نہیں کی ہے۔ ان اقدامات کو واپس لینے کے لیے بھی نہیں کہا۔ یوں دیکھا جائے تو اقوام متحدہ سیکیو رٹی کونسل نے بھارتی اقدامات کی توثیق کی ہے۔ سیکیورٹی کونسل نے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کرنے اور نہ ہی گرفتار افراد کی رہائی کے لیے کہا ہے۔ اس تناظر بھارت ایک جانب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کو اپنی ناکامی مان رہا ہے لیکن اس اجلاس کے نتائج کو کامیابی قرار دے رہاہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں حل کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن اس ضمن میں بھارت کی چال بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان اقوام متحدہ کے تحت حل کرنے پر اتفاق ہوا ، دونوں اقوام متحدہ گئے اور وہاں سے قرادادوں کے ذریعے حل تجویز ہوا۔ تا ہم 1972ء میں شملہ معاہدہ کے تحت یہ طے کر لیا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت تمام معاملات باہمی مذاکرات سے حل کریں گے۔  یوں جب نیا معاہدہ ہو جائے تو پرانا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ شملہ معاہدہ بھی رہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی عمل میں رہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بھارت کا موقف درست ہے لیکن بھارتی چالوں کو سمجھ کر اس کی دلیل ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

میری رائے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حا لیہ اقدامات کے بعد شملہ معاہدہ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ شملہ معاہدہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک پاکستان اور بھار ت کی پارلیمنٹ کی توثیق سے عمل میں آیا تھا۔ لیکن اب جب بھارت کی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370اور 35 -Aکو ختم کرنے کے حو الے  سے ترامیم منظور کر لی ہیں تو جواب میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ ختم کرنے کی قرادداد متفقہ طور پر منظور کر کے شملہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے اقدامات کا جواب یہی بنتا ہے۔ شملہ معاہدہ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ

That the two countries are resolved to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations or by any other peaceful means mutually agreed upon between them. Pending the final settlement of any of the problems between the two countries, neither side shall unilaterally alter the situation and both shall prevent the organization, assistance or encouragement of any acts detrimental to the maintenance of peaceful and harmonious relations;

اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی پارلیمنٹ کے اقدامات شملہ معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ایک طرفٖ بھارتی پارلیمنٹ نے شملہ معاہدہ کی توثیق کی ہوئی ہے۔ اب انھوں نے خود ہی شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر دی ہے۔ اس لیے اس کے بعد شملہ معاہدہ کو ختم کرنے کا واضح جواز موجود ہے۔ اسی طرح شملہ معاہدہ میں لکھا ہوا ہے۔

In Jammu and Kashmir, the line of control resulting from the cease-fire of December 17, 1971 shall be respected by both sides without prejudice to the recognized position of either side. Neither side shall seek to alter it unilaterally, irrespective of mutual differences and legal interpretations. Both sides further undertake to refrain from the threat or the use of force in violation of this Line.

بھارت کے حالیہ اقدامات بھی شملہ معاہدہ کی اس شق کی و اضع خلاف ورزی ہیں۔ اسی طرح روزانہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے گولہ باری بھی شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔ جب بھارت سیز فائر کا احترام ہی نہیں کر رہا تو کس بات کا شملہ معاہدہ۔ کیا ہم نے شملہ معاہدہ صرف بھارت کو اقوام متحدہ سے راہ فرار حاصل کرنے کے لیے جواز فراہم کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔

شملہ معاہدہ میں لکھا ہوا ہے کہ

That the pre-requisite for reconciliation, good neighbourliness and durable peace between them is a commitment by both the countries to peaceful co-existence, respect for each other’s territorial integrity and sovereignty and non-interference in each other’s internal affairs, on the basis of equality and mutual benefit;

کیا اس شق پر عمل ہوا ہے؟کیا شملہ معاہدہ کے بعد بھارت نے سیا چن پر پاکستانی علاقوں پر قبضہ نہیں کیا ہے؟ کیا سیاچن پر بھارت کی پیش قدمی شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں تھی؟کیا بلوچستان میں بھارت نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی؟ کیا گزشتہ سال 15اگست کو مودی کی تقریر جس میں اس نے بلوچستان کی بات کی شملہ معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ کیا شملہ معاہدہ سرکریک کا معاملہ حل کر سکا ہے؟ آپ دیکھیں شملہ معاہد ہ کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بھی تنازعہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

آپ دیکھیں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ کے بعد روس کی وزیر خارجہ نے بھی ٹوئٹ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو شملہ معاہدہ کی روشنی میں باہمی طور پر مذاکرات کرنے چاہیے۔ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹیلی فون گفتگو کے بعد وائٹ ہاوس سے بھی جو پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے اس میں پاکستان اور بھارت کو با ہمی مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔ اس پریس ریلیز کے مطابق ٹرمپ ثالثی سے بھاگ گئے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک جن میں امت مسلمہ کے ممالک بھی شامل ہیں وہ بھی شملہ معاہدہ اور با ہمی مذاکرات کا درس دیتے ہیں۔ اس لیے شملہ معاہد ہ سفارتی محاذ پر پاکستان کے گلے  پڑ چکا ہے۔  اس سے جان چھڑانے میں ہی ملکی مفاد ہے۔

دو ملکوں کے درمیان کسی معاہدے کی منسوخی کوئی دنیا میں پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہوگا۔ ممالک معاہدے کرتے بھی ہیں اور انھیں وقت کے ساتھ جب محسوس کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا اس  سے نکل بھی جاتے ہیں۔ دنیا میں ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ جس طرح بھارت  کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا وہی بہترین وقت تھا۔ اس کے بعد شائد دنیا ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے اجازت نہ دیتی۔ اسی طرح بھارتی پارلیمنٹ کے اقدامات کے جواب میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو کچھ کرنا چاہیے۔ یہی اس کا بہترین وقت ہے۔ اس کے بعد یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ ماہر ین قانو ن کے مطابق جب کسی معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی ہو جائے تو اسے پورے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں تو شملہ معاہدہ کی ہر شق کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔

Source link

اُبلتا دہکتا کشمیر اور سمندر پار پاکستانیوں کا ردِ عمل

0

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مقتدر بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں پر 5اگست کو جو نیا ظلم ڈھایا ہے، اووَرسیز پاکستانی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکے ہیں ۔ امریکا میں لاکھوں پاکستانی بستے ہیں ۔ نیویارک ان کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جناب سردار نصراللہ نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کے لیڈر کہے جاتے ہیں ۔ وہ خود بھی کونسل مسلم لیگ کے صدر اور نیویارک کے ایک مقامی اخبارمیں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے ہیں ۔ سردار صاحب کو سیاست اور صحافت گھٹّی میں ملی ہے۔

اُن کے دادا مولوی انشاء اللہ خان تشکیلِ پاکستان سے قبل لاہور سے ’’وطن‘‘ نامی اخبار شایع کرتے رہے ہیں ۔ اِسی اخبار کی مناسبت سے لاہور میں ’’وطن بلڈنگ‘‘ کو خاصی شہرت رہی ہے ۔ مولوی صاحب کو یہ بھی اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ حضرت علامہ اقبال ؒ کی علمی مجالس میں تقریباً روزانہ ہی حاضری دیتے تھے ۔ سردار نصر اللہ صاحب کے والد گرامی، سردار محمد ظفر اللہ، تحریکِ پاکستان اور قائد اعظم ؒ کے سپاہی تھے۔ کونسل مسلم لیگ کے پرچم تلے سردار ظفراللہ صاحب ( مرحوم و مغفور)لاہور میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒکے جلسوں کا اہتمام اور میزبانی کا شرف حاصل کرتے رہے ہیں ۔فقیر سید وحید الدین کی مشہور کتاب ’’روزگارِ فقیر‘‘ اور منیر احمد منیر کی نئی تصنیف ’’مٹتا ہُوا لاہور‘‘ میں سردار نصر اللہ کے دادا اور والد گرامی کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اِسی ورثے اور جبلت کے تحت سردار نصر اللہ صاحب نے بھی نیویارک میں اپنی مسلم لیگ اور پاکستان کی محبت کا چراغ روشن کررکھا ہے۔ سردار صاحب ایک زمانے میں نیویارک میں نواز شریف کے میزبان اور جلسوں کے مہتمم بھی رہے ہیں ۔

سردار نصر اللہ نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان کے عشاق میں بھی شمار ہوتے ہیں ۔22 جولائی کو خانصاحب نے واشنگٹن کے مشہور اسٹیڈیم (کیپیٹل وَن ایرینا) میں پاکستانی امریکیوں سے خطاب کیا تو سردار صاحب بھی اس جلسے میں شریک تھے۔ فون پر سردار نصراللہ نے مجھے بتایا: ’’متعصب مودی نے کشمیریوں پر جو نیا ستم ڈھایا ہے، نیویارک میں پاکستانی اور کشمیری نژاد امریکی سخت ناراض ہیں ۔ ہم نے مظاہرے کرنے اور امریکی میڈیا میں اپنا ردِ عمل دینے کے لیے اپنی کمیونٹی کا ایک اجلاس بلایا۔ پہلے تو یہ طے کیا گیا کہ 50 ہزار ڈالر اکٹھے کیے جائیں تا کہ نیویارک ٹائمز میں بھارتی ظلم کے خلاف اشتہار شایع کروایا جائے ۔ اس بارے سب نے جوش تو بہت دکھایا لیکن پچاس ہزار ڈالرز تو کیا، پانچ ہزار ڈالر بھی اکٹھے نہ کیے جا سکے ؛ چنانچہ اشتہار والا منصوبہ تو ڈراپ کرنا پڑا‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ’’ پاکستان نژاد امریکی اب تک نیویارک میں تین احتجاجی جلوس نکال چکے ہیں ۔

پہلا احتجاجی مظاہرہ مین ہیٹن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے کیا گیا ۔ اس میں جوش تو خوب تھا لیکن شرکت کنندگان کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی مطلوب تھی ۔ دوسرا احتجاجی مظاہرہ بھی مین ہیٹن ہی میں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے کیا گیا لیکن حاضرین کی تعداد وہاں بھی کم تھی ۔ تیسرا مظاہرہ مشرف لیگ کے حامیوں نے کیا اور ان کی تعداد 80کے قریب تھی ۔‘‘ سردار نصراللہ نے تاسف سے کہا:’’ہم پاکستانیوں نے یہاں نیویارک میں بھارت کے خلاف اپنے احتجاجات تو ریکارڈ کروا دیے لیکن مجھے افسوس اس بات کا زیادہ ہے کہ وہ پاکستان نژاد امریکی جو ہزاروں کی تعداد میں عمران خان صاحب کی تقریر سننے دُور دراز کے امریکی شہروں سے چل کر واشنگٹن ایرینا پہنچے تھے ، کشمیریوں کے حق میں اور بھارت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے نیویارک میں ایک ہزار پاکستانی بھی نہ آ سکے۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے امریکا میں بسنے والے پاکستانیوں سے بنفسِ نفیس اپیل کی تھی کہ وہ جوق در جوق ، بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں بھارت کے خلاف مظاہرے کریں لیکن خانصاحب کی اپیل بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی ۔ نیویارک کے برعکس لندن شہر میں کشمیریوں اور پاکستان نژاد برطانوی شہریوں نے زیادہ منظم انداز میں  مظاہرے کیے ہیں ۔

حتیٰ کہ بی بی سی کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ مظاہروں کے باعث مرکزی لندن مفلوج ہو گیا ۔ لاریب ان مظاہروں سے مسئلہ کشمیر انٹرنیشنلائز ہُوا ہے ۔ بھارتی دانشور بھی یہ بات مان رہے ہیں۔ بھارتی کانگریس کے سینئر لیڈر، ابھیشک مانو سنگھوی، نے بھی اعتراف کیا ہے کہ مودی جی نے بھارتی آئین سے آرٹیکل پنتیس اے اور 370ختم کرکے کشمیر ایشو کو انٹر نیشنلائز کر دیا ہے ۔ بھارت کو اب اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لندن میں ہونے والے بھارت مخالف پاکستانیوں اور کشمیریوں کے مظاہروں نے بھارت کا ناک میں دَم کر رکھا ہے۔ ان مظاہروں میں اب بھارت نژاد سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہو رہی ہے۔ اس عنصر نے بھارتی سردرد میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ششی تھرور ایسے عالمی شہرت یافتہ بھارتی مصنف و دانشور بھی لکھ اور کہہ رہے ہیں کہ اِسی بات کا ڈر تھا کہ برطانیہ کے سکھ بھی کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ مل سکتے ہیں ۔ اور ہُوا بھی ایسا ہی ۔کشمیر کی حمایت میں اور بھارت کی مخالفت میں ضعیف و جوان برطانوی سکھ جس طرح اپنی آوازیں اور بازو بلند کر رہے ہیں ، اس نے منظر ہی تبدیل کر دیا ہے ۔

فلاحِ انسانیت کے لیے برطانیہ میں بروئے کا ر پاکستانیوں کے دو معروف اداروں ’’مسلم ہینڈز‘‘ اور ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے سربراہان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی جبر کے خلاف لندن میں پاکستان نژاد برطانویوں نے یورپ کا سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ’’ مسلم ہینڈز‘‘ کے چیئرمین جناب لخت حسنین نے راقم کے پوچھنے پر بتایا : ’’آج مقبوضہ کشمیر میں ہمارے مجبور مسلمان بہن بھائی جس انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے حق میں برطانوی پاکستانیوں کا اُٹھنا ایک فطری عمل ہے ۔مَیں ایک چیریٹی ورکر ہُوں اور مَیں اپنے کشمیری بھائیوں کی محض انسانیت کے ناتے مدد کرنا چاہتا ہُوں لیکن انڈین جبر کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور استحصال نہیں ہے؟‘‘ اور ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد صاحب نے کہا :’’ لاریب کشمیریوں کی مظلومیت اور نریندر مودی کے نئے استحصالی اقدام کے خلاف لندن میں پاکستان نژاد برطانوی شہری احتجاج میں اُمنڈ کر آئے ہیں ۔

دس ہزار سے زائد کا احتجاجی جلسہ اپنی نوعیت کا منفرد اور ولولہ انگیز مظاہرہ تھا۔لارڈ نذیر احمد نے برطانوی پاکستانیوں کو بھارتی ظلم کے خلاف موبلائز کرنے میں زبردست کردار ادا کیا ہے ۔ہماری تنظیم مقبوضہ کشمیر جا کر خود ستم زدگان کی مقدور بھر اعانت کرنا چاہتی ہے لیکن مودی سرکار نے ہمارے سامنے دیواریں کھڑی کررکھی ہیں۔‘‘ سمندر پاکستانیوں نے یکجہت ہو کر جس طرح بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، یہ رائیگاں نہیں جارہے ۔ ان کی وجہ سے بھارت سخت دباؤ میں ہے ۔اس کا اندازہ 18اگست2019ء کی اُس پریس کانفرنس سے لگایا جا سکتا ہے جو اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے اندر کی گئی تھی۔ اس پریس کانفرنس سے خطاب کرنے جب یو این او میں بھارتی سفیر (سید اکبرالدین) سامنے آئے تو وہ غیر ملکی اخبار نویسوں کے سوالات کے جواب دیتے ہُوئے بوکھلا اُٹھے تھے۔ ان سوالات میں امریکا و برطانیہ میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کا موضوع مرکزی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔

Source link

خطرناک صورتحال – ایکسپریس اردو

0

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے 35A اور 370 دفعات کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر اپنی آزادی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ اب فطری طور پرکشمیری تحریک آزادی کی طرف پیش رفت کریں گے۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں، ان میں سفارتی تعلقات کا خاتمہ، تجارتی تعلقات کا خاتمہ ، سمیت کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں جن سے دونوں ملکوں کے تعلقات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ غالباً 1971ء کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ سخت ترین اقدامات ہیں۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست کے یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا اور ہندوستان کے یوم آزادی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ ان اقدامات سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 72 سال سے تعلقات میں کشیدگی، تین بڑی جنگوں کے بعد اب سفارتی اور تجارتی تعلقات کے خاتمے تک آ پہنچے ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر دونوں ملک خاص طور پر ہندوستان صبر و تحمل اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہ کرے اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے تو پھر کشیدگی اس مقام تک پہنچ جائے گی جہاں سے جنگ سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ بھارت ابتدا ہی سے جارحیت پرکاربند رہا ہے۔ کوئی معقول بات کی ہے نہ آیندہ کوئی معقول اور ہوش مندانہ بات کرتا نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو بد قسمتی سے برصغیر کے عوام ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو مزید پسماندگی کی لپیٹ میں لے لے گا، دوسرے ملکوں پر قبضے کی سائیکی بہت پرانی روایت ہے، دنیا سر سے لے کر پیر تک بدل گئی ہے لیکن یہ سائیکی ابھی تک زندہ ہے۔

ہندوستان اور پاکستان دو پسماندہ ترین ملک ہیں اور اس پسماندگی کے خاتمے کے لیے شرط اول امن اور تعلقات میں بہتری ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت امن اور رواداری کی پالیسی پر چلنے کے بجائے تصادم اور کشیدگی کی پالیسی پر چلتا آ رہا ہے، جس کا نتیجہ تین جنگوں کی شکل میں خطے کے غریب ممالک بھگت چکے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ بدقسمتی سے دونوں ملک ایک اور جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہندوستان کا ریکارڈ بہت خراب ہے، ہندوستان نے کبھی اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کی ہمیشہ جارحانہ پالیسیوں پر عملدرآمد کرتا رہا۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ مایوس کن اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ سیکولر کہلانے کا دعوی کرنے والا ملک بھارت آج مذہبی انتہا پسندی کی راہ پر چل پڑا ہے اور یہ ٹریجڈی پورے خطے کے عوام کے لیے باعث مایوسی بن رہی ہے۔

آج کل دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ انسان جو ہزاروں سال سے غیر عقلی روایات سے چمٹا ہوا ہے، اب آہستہ آہستہ ماضی سے جان چھڑا کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے حقیقت پسندانہ دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ کیا ہندوتوا اسے ایک بار پھر اندھیروں میں نہیں دھکیل دے گا؟ بھارت کی ابتدائی پہچان اور شناخت ایک ترقی پسند سیکولر اسٹیٹ کی تھی اور اسی شناخت کی وجہ سے ساری دنیا میں بھارت کی عزت اور پذیرائی کی جاتی تھی، آج وہ بھارت ہندوتوا کے ذریعے اپنی شناخت کرانے جا رہا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے۔

برصغیرکے عوام سیکڑوں سال سے ذہنی اور معاشی پسماندگی کے شکار ہیں۔ آزادی کے بعد جب برصغیر کو نو آبادیاتی نظام سے چھٹکارا ملا تو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب یہ خطہ خاص طور پر برصغیر کے طور پر پہچانا جانے والا، جہل سے چھٹکارا پا کر جدید علوم کی روشنی سے منور ہو گا لیکن اس بدقسمتی کو کیا کہیں کہ عقل کے دشمنوں نے برصغیر کو ایک بار پھر اندھیروں میں دھکیل دیا ہے اور برصغیر کے ایک ارب کے لگ بھگ غریب اور معاشی پسماندگی کے شکار عوام مذہبی نفرتوں کے بھنور میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔

72 سال تک پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے برصغیرکے بہتر مستقبل کی امید میں وقت گزار رہا تھا۔ کشمیری عوام پاکستان سے ممکنہ ادغام کی امید میں زندہ تھے، اب جب انڈیا نے ایک دم کشمیر کو دستوری طور پر بھارت میں شامل کر لیا ہے تو ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیری عوام کا مشتعل ہونا ایک فطری امر ہے اور یہ سب اس طرح ہوا ہے کہ 72 سال سے دبی ہوئی نفرتیں خدا نخواستہ ایک خطرناک مذہبی جوش و ولولے کے ساتھ ابھر کر سامنے نہ آ جائیں۔ اس خطے کے وہ لوگ جو اس خطے کے بہتر مستقبل کی امید میں بیٹھے ہوئے تھے سخت مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔

پسماندہ ملکوں کے عوام میں مذہب ایک انتہائی نازک اور جذباتی مسئلہ ہے، اگر انھیں اس طرح مذہبی تصادم کی طرف دھکیل دیا جائے تو اس کے کتنے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بھارت میں سب لوگ مذہبی انتہا پسند ہی نہیں لبرلز کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ اہل علم اور اہل دانش کی ایک بھاری تعداد بھی بھارت میں رہتی ہے جو مودی کے ہندوتوا کے شیطانی چکر سے دور رہتی ہے، ضرورت ہے کہ یہ لبرل قوتیں بھارتی اپوزیشن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی جے پی کی سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

Source link

افغان بحران کے حل کے اشارے

0

www.facebook.com/shah Naqvi

www.facebook.com/shah Naqvi

طالبان اور امریکا کے درمیان امن بات چیت کا آٹھوں مرحلہ اگست میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دوبارہ شروع ہو گیا۔ امریکی سینئر حکام کے مطابق یہ مرحلہ انتہائی اہم ہے کیونکہ افغان جنگ اپنے اختتامی مرحلے  میں ہے۔ افغانستان جس تباہی و بربادی سے گزر رہا ہے اس کا آغاز دو دہائی نہیں بلکہ 40 سال پہلے ہوا، ذرا سوچیں جب کسی انسان، قوم یا ملک پر جب کوئی برا وقت نازل ہوتا ہے تو اس کی طوالت تمام تر کوششوں کے باوجود40 برسوں پر پھیل جاتی ہے اور افغانستان میں عدم استحکام کا آغاز اس  وقت ہی ہو گیا تھا جب ظاہر شاہ کے کزن سردار داؤد نے ان کی بادشاہت کا تختہ الٹا تھا۔ افغانستان چونکہ گریٹ گیم کا اہم حصہ تھا، یہاں سے روس اور چین پر نظر رکھی جاتی تھی،  سینٹرل ایشیاء کے وسیع ذخائر تھے چنانچہ عالمی طاقتوں نے لنگر لنگوٹ کس کر افغانستان پر دھاوا بول دیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم نے افغانستان کے حوالے سے بہت پیش رفت کی ہے۔ طالبان سے بات چیت جاری ہے۔ طالبان کی جانب سے 19رکنی وفد امن مذاکرات میں شریک ہے۔ اس نئے مذاکراتی دور کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ سنیئر امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ اس مرحلے میں فریقین کسی امن معاہدے پر متفق ہو سکتے ہیں، جس سے18سالہ جنگ کے خاتمے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ امریکی نمایندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ امریکا طالبان کے ساتھ امن ڈیل طے کرنے کی کوششوں میں ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امن معاہدے میں یقینی طور پر امریکی فوج کے انخلاء کا عمل بھی شامل ہو گا اور افغانستان میں امریکی موجودگی کی شرائط کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انھوں نے اس کے ساتھ افواج کے انخلاء کو مشروط قرار دیا۔

طالبان بھی امن معاہدے پر دستخط کرنے کے اشارے دے چکے ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ صورت حال یہاں تک ہموار ہو چکی ہے کہ اس سمجھوتے کے طے پانے کا امکان اسی مہینے میں ظاہر کیا گیا ہے۔ جب کہ طالبان معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ضمانتیں بھی فراہم کریں گے۔ طالبان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک بہترین امن ڈیل قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کی تعداد میں کمی طالبان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کا واضح نتیجہ ہو گا۔ اس کے بعد طالبان کا بل حکومت کے ساتھ براہ راست مذکرات کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی طالبان کو دورہ پاکستان کی دعوت فوراً قبول کرنے پر ان کے مخالفین نے انھیں پاکستان کی پراکسی قرار دیا تو انھوں نے کہا کہ وہ کسی کی پراکسی نہیں بلکہ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ امکان ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات کے آٹھویں دور کے خاتمے کے بعد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ جس میں اہم ملاقاتیں اور اعلانات متوقع ہیں۔ جتنی سرعت کے ساتھ امریکا طالبان مذاکرات میں پیشرفت ہوئی وہ حیران کن ہے۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ پاکستان بھی متوقع ہے جس کی تاریخ کا تعین ابھی نہیں کیا گیا لیکن قرائن سے ظاہر ہوتا ہے یہ دورہ اگست کے آخر یا ستمبر کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہو جائیں گے۔ جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ہم نے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں رکھیں تاہم انھوں نے اس بات کو واضح کر دیا کہ امن معاہدہ شرائط کے بغیر نہیں ہو گا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم افغانستان میں خلافت نہیں جمہوری حکومت چاہتے ہیں۔

8 ویں مذاکراتی دور کے بارے میں خبر یہ ہے کہ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے سر توڑ کوششیں جاری ہیں کیونکہ امریکی حکومت یکم ستمبر سے پہلے طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرنے کی خواہش مند ہے۔ دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق ہم80  فیصد امور پر معاہدہ کر چکے ہیں اور باقی20 فیصد میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء کا ٹائم فریم اور ایک اور مسئلہ شامل ہے۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دوسرا مسئلہ کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے اور بڑا مسئلہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم پر امید ہیں کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں معاہدہ کر لیں گے۔ زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں زبردست پیشرفت ہوئی ہے۔ طالبان ذرایع کے مطابق افغان طالبان رہنما ملا برادر اور امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے مابین براہ راست ملاقات کا بھی امکان ہے۔

افغان مسئلے پر امریکا، طالبان، افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان زبردست سرگرمیاں جاری ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد افغان مسئلے کے حل میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ پوری دنیا میں افغان مسئلے کے حل میں جو کردار پاکستان ادا کر سکتا ہے وہ دنیا کا کوئی اور ملک نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے مودی حکومت کو مایوسی کی انتہا پر پہنچا دیا۔ باوجود اس کے بھارتی حکومت نے افغانستان میں اربوں ڈالر  خرچ کیے، اس اعلان نے بھارت کو افغان مسئلے سے نکال باہر کیا۔ یہ پاکستان کی بھارت پر بہت بڑی اسٹرٹیجک کامیابی تھی۔

پاک امریکا تعلقات کا مستقبل اور پاکستان کا خطے میں پھیلتا ہوا اثر و رسوخ بھارت کو دیوار پر لکھا ہوا نظر آ رہا تھا۔ بھارت نے تو پچھلے کئی سال کی جدوجہد سے پاکستان کو دہشتگردی کے حوالے سے تنہا کر دیا تھا۔ لیکن امریکا کے پاکستان کے قریب آنے سے مدتوں کی ان سازشوں پر پانی پھر گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا مسلسل بھارت کو مذاکرات اور امن کی دعوت جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی تائید کے بغیر ممکن نہ تھی پوری دنیا کو پیغام گیا کہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں خطے میں امن چاہتا ہے۔ کرتار پور راہ داری اوپر سے سونے پر سہاگہ تھا۔ جس نے پوری دنیا میں سکھوں کے دل جیت لیے۔ اوپر سے ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ وہ پس منظر تھا جس میں مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ اس سے پہلے پانی سر سے نہ گزر جائے۔

Source link

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

0

عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں ہرجگہ مظلوم مسلمانوں کے لیے دعاکرائی۔مسجدمیں ہرشخص نے آمین کہا۔دعاکے بعد،تمام لوگ جیسے آئے تھے،ویسے ہی گھرچلے گئے۔ واپسی پرسوچ رہاتھاکہ پہلی بارکشمیر،فلسطین کی آزادی کے متعلق دعائیں کہاں اورکب سنی تھیں۔گمان تھاشائد چالیس سال یاشائدپچاس برس پہلے۔قطعی جواب حاصل نہ کرنے کے بعد اپنی خاموشی میں ڈوب گیا۔رات کویاد آیا کہ جناح کالونی کی بغدادی مسجدمیں نمازپڑھنے گیا تھا۔ شائدپہلی بار وہاں شام کی نمازکے بعد،مولاناصاحب نے کافی لمبی دعا کرائی۔اس میں کشمیراورفلسطین کے مسلمانوں کے حالات بہترکرنے کے متعلق بڑے جذباتی الفاظ موجود تھے۔یہ شائد1969ء کی بات ہے یا1970ء کی، وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ ویسے اب تویہ لگتاہے کہ کوئی بھی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔کیونکہ لاعلمی کا احساس حددرجہ بڑھ چکاہے۔

بہرحال کیڈٹ کالج حسن ابدال میں پانچ برس، کالج کی مسجدکے خطیب صاحب، ہرنمازکے بعدبڑی دکھ بھری آوازمیں دنیاکے مسلمانوں کے حالات بہترہونے کی دعامانگتے تھے۔میری عمراس وقت بارہ برس تھی۔ آٹھویں کاطالبعلم تھا۔پورے پانچ سال،یعنی ایف ایس سی کے اختتام تک میں ہرنمازکے بعد،بالکل ایک جیسے الفاظ سنتارہا۔اب ساٹھ سال کی عمرمیں بعینہ وہی دعائیں سن رہاہوں۔پہلے ذہن میں کبھی یہ سوال نہیں آیاکہ کسی سے پوچھ سکوں کہ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں۔ مگراب یہ سوال بہرحال ذہن میں بجلی کی طرح کوندتا ہے۔مکمل طورپربے بس کرڈالتاہے۔میرے پاس کسی قسم کاکوئی جواب نہیں ہوتا۔عرض کرتاچلوں کہ رائے ونڈمیں تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماع میں لاکھوں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اجتماع کے آخری دن بڑاایمان پرورلمحہ ہوتا ہے۔

مذہبی قائدین روروکرمسلمانوں کی فلاح کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔طویل دعا میں لاکھوں لوگ زاروقطار آنسو بہارہے ہوتے ہیں۔مگرتھوڑے عرصے کے بعد حالات اور کاروبارزندگی مکمل طورپرایسے ہی رواں رہتاہے،جیسے پہلے چل رہاتھا۔کشمیربھی ہندوستان کے تسلط سے آزادنہیں ہوتا۔اسرائیل بھی پوری طاقت کے ساتھ،فلسطینی مسلمانوں پر مظالم جاری رکھتاہے۔ہاں ایک اوربات۔ آج سے دوتین دہائیاں پہلے،بوسنیاکے مسلمانوں کی بھلائی کے الفاظ بھی سنے جاتے تھے۔ویسے جوکچھ مظالم بوسنیااور اس کے اردگردکے علاقوں میں برپاہوئے،اس میں عالمی برادری نے باقاعدہ جنگ کرکے مظلوم لوگوں کی مددکی۔یہ جنگ ان مغربی ممالک نے کی،جنھیںہم کافرکہتے ہیں اورجن کے معاشرے لادین ہیں۔بہرحال مغربی دنیاکی مددسے اس خطے میں نئے ممالک وجودمیں آئے اور پھر مظالم ختم ہوگئے۔ان کو روکنے کے لیے کسی مسلمان ملک نے اپنی فوج  یافضائیہ کو مسلمانوں کی مددکے لیے بھیجنے سے گریزکیا، البتہ لفاظی بہت ہوئی۔

حج ہمارے ایمان کابنیادی جزوہے۔ یہاں بھی  مسلمانوں کے اتحادکے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ لاکھوں آدمی پوری دنیاکے مظلوم مسلمانوں کے لیے آنسوؤں کے ساتھ دعائیں مانگتے ہیں۔لگتاہے کہ تھوڑے دن کے بعد،تمام مسلمان ممالک فولادکی طرح مظلوم بھائیوں کی مددکے لیے،متحدہوجائیںگے۔ہمارے لشکر،ظلم کرنے والوں کی گردنیں مروڑدینگے۔مگر مسلم ممالک کی قیادت پھر بھی مصلحتوں کا شکار رہتے ہیں۔ پھرکیامسلم اتحاد اور کون سی یکجہتی۔تمام مسلم معاشروں اور ممالک پرتنقیدی نظر ڈالیں۔بے ایمانی،متنازعہ شخصیات، فریب، جھوٹ، ریاکاری اور منافقت موجود ہیں، یہ اوصاف انفراد ی اور ریاستی اعتبارسے بھی موجود ہیں۔ یہ ہمارے جیسی ریاستوںکے خمیرمیں شامل ہیں بلکہ لازم جزوبن چکی ہیں۔

عام لوگوں کوعلم،تجسس اورترقی سے انتہائی سفاک طریقے سے دور رکھاگیاہے۔ویسے اگرکینویس کوبڑاکرلیں،توتیسری دنیا کے حالات بالکل یکساں ہیں۔ان کے بربادرہنے میں  حکمران طبقے کا اہم کردار ہے ۔مسلم ممالک،اپنی پیہم ناکامی کوکسی بھی صورت میں معقولیت سے جواب تلاش کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔اکثریت ایک انتہائی معصومانہ،پہلے سے تخلیق کردہ جواب کواصل سمجھتے ہیں کہ ہماری اصل ناکامی،اس لیے ہے کہ ہم اپنے دین سے دور  ہیں۔یہ کسی حدتک درست بھی ہے۔مگرپھران ممالک کے نظام کوپرکھنا پڑتاہے،جہاں  مذہب سیاست سے دور ہے ۔جیسے چین،روس،ویت نام وغیرہ۔ وہاں معاملات بالکل درست ہیں۔

دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی صورت میں،لازم ہے کہ ہمیں تقابلی جائزہ لیناپڑتاہے۔ترقی یافتہ ملک کیسے اتناآگے نکل گئے۔ہم اتنے پیچھے کیسے رہ گئے۔وہ کیا  عوامل تھے اورہیں۔جنھوں نے ہمیں جنگ،بے ترتیبی اورغفلت کی کیلوں سے زمین میں گاڑکررکھ دیاہے۔مگریہ تقابلی جائزہ کرنااَزحدخطرناک ہے۔اسلیے کہ اس میں کئی ایسے عوامل بھی سامنے آتے ہیں جن پرہمارے جیسے معاشروں میں کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔ہاں،ملفوف باتیں ضرورکی جاسکتی ہیں۔جوسمجھنے والے سمجھ لیں اورنہ سمجھنے والوںکے اوپرسے گزرجائیں۔اگرہم دانائی سے سوچیں،جوکہ اَزحدمشکل ہے۔توہم اپنی مشکلات کے ذمے دارِ خودہیں۔کوئی بھی عالمی طاقت ہمیں موروثی بادشاہت یاخاندانی جمہوریت پرمجبورنہیں کرتی۔دنیا کا کوئی بھی مضبوط ملک،ہمیں مالیاتی،اخلاقی اورسماجی کرپشن کاسبق نہیں دیتا۔اس کام کے لیے ہم خودہی کافی ہیں۔کسی بھی مسلمان ملک کولے لیجیے۔

آپکوان معاشروں میں پسماندگی کے اسباب تقریباً یکساں محسوس ہوں گے۔ سب کچھ چھوڑدیجیے۔اپنے ملک کے نظام کوسامنے رکھ کر معاملات کی گتھی سلجھانے کی کوشش کریں۔چودہ طبق روشن ہوجائیںگے۔جس وقت برصغیرکوتقسیم کیاگیا تھا۔ تو ہمارے بزرگوںکے ذہن میں تھاکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہوگا،جہاں مسلمانوں کومذہبی،اقتصادی اورسماجی آزادی ہوگی۔اپنے دین کے مطابق عملی زندگی گزارنا ممکن ہوگا۔کوئی دوسرا طاقت کے بل پر ہم پرحکومت نہیں کریگا۔معاشی انصاف ہوگا۔بلکہ ہرشعبہ میں انصاف ہوگا۔

مگرآج تعصب کے بغیرسوچیے تو کیاجواب ملتا ہے۔ ان میں ایک بھی اُصول پرپابندِکارنہیں ہوپائے۔مذہبی تفریق بڑھ کرایک دوسرے کی گردن کاٹنے تک جاچکی ہے۔کوئی ایک فرقہ،دوسرے کومکمل مسلمان تسلیم کرنے کے لیے تیارنہیں ہے۔ہرفرقے کی مساجد اور عبادت گاہیں، الگ توہیں ہی۔مگروہ دوسرے فرقے کے مسلمانوں کے لیے کشادہ نہیں ۔ایک دوسرے کو کافر قرار دیناعام سی بات ہے۔ وہ مذہبی رواداری اورانسانیت کے اُصول،جن کے لیے ہم نے نیاملک بنایا تھا۔کیاواقعی ہم ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہیں۔کیاایک دوسرے کے غم میں شریک ہونے والے بھرپورانسان ہیں۔آپکے پاس ہوسکتا ہے کہ اس سوال کاجواب ہو۔مگرکم ازکم میرے جیسے طالبعلم کے پاس توکسی طرح کامعقول جواب نہیں۔

مالیاتی کرپشن کی طرف آئیے۔پاکستان میں ایک بھی امیرآدمی یامتمول خاندان،اپنی دولت کامنبع نہیں بتا سکتا۔کوئی بھی جواب نہیں دے سکتاکہ گزشتہ بہتربرسوں میں اتناامیرکیسے ہوا۔بے ایمانی کوکاروبارکی منطق بنادیا گیاہے۔پرانی حکومتیں سیانی تھیں۔انھوں نے ہرطرح سے آنکھیں بندکررکھی تھیں۔مگرموجودہ حالات ہماری معیشت کوکس طرف لیجاتے ہیں،ان کے متعلق کچھ بھی وثوق سے کہناتقریباًناممکن ہے۔سیکڑوں لوگوں کوجانتا ہوں۔متمول ہیں۔کامیاب زندگی گزاررہے ہیں۔ مگر کاروباری اُصولوں میں بے ضابطگی کوبالکل برا نہیں سمجھتے۔دونمبرمال کمانے کوشیرمادرسمجھتے ہیں۔

جعلی کام، جعلی اکاؤنٹ،ٹیکس سے ہرطریقے سے مفر،اپنے اپنے کاروبارکے بنیادی اُصول گردانتے ہیں۔میرے ایک واقف کاروباری صاحب نے ایک دن عجیب سی بات کی۔ان کالاہورکی پوش مارکیٹ میں بہت بڑاکاروبار ہے۔ چین سے کاسمیٹکس منگواکرپورے پاکستان میں فروخت کرتے ہیں۔ایک دن ملنے آئے توکہنے لگے کہ الحمداﷲ ساری نمازیں پڑھتاہوں۔زکوۃ بھی دیتا ہوں۔ غریبوں کی مددبھی کرتاہوں۔مگرایک بات ضرورکہوں گا، کہ کاروبارالگ چیزہے اوردین مکمل الگ۔انھوں نے باضابطہ طریقے سے کاروبارکے ٹھپ ہونے کی باتیں کیں۔ جب انھیں گھرسے باہرچھوڑنے گیا،تووہ نئی ماڈل کی مرسیڈیز پر تشریف لائے تھے۔اگرکاروبارکم ہونے پر ڈیڑھ کروڑکی گاڑی رکھی ہوئی ہے توکامیاب کاروبار پر کیا حالات ہوںگے۔یہ سوال بارہاذہن میں آتا رہا۔ مگر مجبوری ہے کہ پوچھ نہیں سکتا۔

یہ درست ہے کہ مسلمان ہرطرح کی ناانصافی اور استحصال کاشکارہیں۔داخلی انتشارسے لے کربیرونی طاقتوں کے فریب میں غرق ہیں۔مگرپھربھی اپنے آپ کوٹھیک کرنے کے لیے تیارنہیں۔شائداس لیے کہ ان تمام ممالک میں نظام کوبہتربنانے کے لیے سنجیدہ کوشش کی اجازت ہی نہیں۔انھوں نے اپنے اپنے ملک میں ہرطرح کے ظالم اورمظلوم پال رکھے ہیں۔یہ آزاد تحقیق کوگناہ کادرجہ دے چکے ہیں۔انھیں مظلوم رہنے کاحددرجہ شوق ہے۔مگران میں سے کوئی بھی دوسرے سے یہ نہیں پوچھتاکہ ہماری دعائیں،قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

Source link

بھارتی فوج کی ایل او سی پر گولا باری، 2 معمر شہری شہید

0

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی ایس پی آر۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی ایس پی آر۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: آئی ایس پی کے مطابق بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر گولا باری کے نتیجے میں 2 معمر شہری شہید ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو مارٹر ٹینک گائیڈڈ راکٹس سے نشانہ بنایا ہے نتیجے میں 61 سالہ حسن دین اور 75 سالہ لعل محمد شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ جوابی کارروائی میں بھارتی چیک پوسٹوں کو بھی نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اشتعال انگیزی کی وجہ سے اب تک کئی جوان، عام شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

Source link

Must Read