Home Authors Posts by HairStyleBy

HairStyleBy

577 POSTS 0 COMMENTS

بھارتی فوج کی ایل او سی پر گولا باری، 2 معمر شہری شہید

0

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی ایس پی آر۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، آئی ایس پی آر۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: آئی ایس پی کے مطابق بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر گولا باری کے نتیجے میں 2 معمر شہری شہید ہوگئے جب کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو مارٹر ٹینک گائیڈڈ راکٹس سے نشانہ بنایا ہے نتیجے میں 61 سالہ حسن دین اور 75 سالہ لعل محمد شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ جوابی کارروائی میں بھارتی چیک پوسٹوں کو بھی نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اشتعال انگیزی کی وجہ سے اب تک کئی جوان، عام شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

Source link

سبی میں پانی كی شدید قلت سے شہری بلبلا اُٹھے

0

كمشنر سبی ڈویژن نا اہل عملے كے خلاف فوری كاررروائی كریں ، مكینوں كا مطالبہ ۔ فوٹو : فائل

كمشنر سبی ڈویژن نا اہل عملے كے خلاف فوری كاررروائی كریں ، مكینوں كا مطالبہ ۔ فوٹو : فائل

سبی: سبی شہر میں پانی كی قلت، سخت گرمی اور حبس سے ستائے لوگ پانی كے لیے در بدر كی ٹھوكریں كھا رہے ہیں اور یہاں تک گھر وں میں پینے كے لیے بھی پانی دستیاب نہیں۔

سبی میں پی ایچ ای كی ناقص كاركردگی كی بدولت اللہ آباد، غریب آباد، چمڑہ كارخانہ اور كلی در محمد ہانبھی سمیت شہر كے بیشتر علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے پانی سے محروم ہیں اور اہل علاقہ پانی كی بوند بوند كو ترس رہے ہیں، گھروں میں پینے كے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے جب كہ جن علاقوں میں كئی دن بعد پانی آتا ہے تو وہ بھی اتنا گندہ ہے كہ پینے كے قابل نہیں ہوتا۔

لوگ علی الصبح سے ہی پانی كی تلاش میں نكل پڑتے ہیں اور سائیكل موٹر سائیكلوں، پیدل اور گدھا ریڑھیوں پر پانی كی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں اور رات گئے تک یہی مناظر دیكھنے كو مل رہے ہیں۔

سماجی اور سیاسی تنظیموں كے رہنماؤں كا اس سلسلے میں كہنا ہے كہ اگر اتوار تک پانی كا مسئلہ حل نا كیا گیا، تو پی ایچ ای كے خلاف سخت احتجاج كیا جائے گا۔

انہوں نے كہا کہ پانی كی فراہمی عوام كا بنیادی حق ہے اور اس شدید گرمی اور حبس میں پانی كی عدم فراہمی عوام كو تڑپا تڑپا كر مارنے كے مترادف ہے، مگر افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ پی ایچ ای كے ذمہ دار آفیسران اب تک اس مسئلے پر خاموش ہیں، ہم كمشنر سبی ڈویژن اور ڈپٹی كمشنر سبی سے معاملے كا فوری نوٹس لینے كی اپیل کرتے ہیں اور نا اہل عملے كے خلاف فوری كاررروائی كریں۔

Source link

سمندر میں گندگی سے سینکڑوں مچھلیاں ہلاک، کلفٹن کے ساحل پر آگئیں

0

کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی سے مچھلیاں ہلاک ہوئیں، ماہرین ۔ فوٹو : ایکسپریس

کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی سے مچھلیاں ہلاک ہوئیں، ماہرین ۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی: کلفٹن کے ساحل پر حالیہ بارشوں سے سمندر میں پھیلنے والی گندگی کے باعث آکسیجن کی کمی کے سبب سینکڑوں مچھلیاں ہلاک ہوگئیں جو لہروں کے ساتھ بہہ کر ساحل پر آگئیں۔

سمندر نے بڑی تعداد میں مردہ مچھلیاں اُگل دیں جو اتوار کی صبح کلفٹن کے ساحل پر دکھائی دیں اورتھوڑے تھوڑے فاصلے پر مردہ حالت میں موجود مچھلیاں تفریح کے لیے آنے والوں کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی رہیں۔

اس بارے میں ایک قیاس یہ بھی تھا کہ کوئی لانچ ان مچھلیوں کو پھینک کر گئی ہے کیوں کہ چند سال قبل ساحل سمندر پر اس نوعیت کا واقعہ بھی مشاہدے میں آیا ہے اور اکثر جولائی تا ستمبر میں سمندری لہروں کی بلندی میں اضافے جب کہ مون سون کی بارشوں کے بعد بھی مردہ مچھلیوں کی ساحل پر موجودگی رپورٹ ہوچکی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر معظم علی خان کے مطابق بارش کے بعد آبی حیات کا بڑی تعداد میں متاثر ہونا انوکھی بات نہیں ہے، بارشوں میں ندی نالوں کا گندا پانی بڑی مقدار میں سمندر میں گرتا ہے۔

معظم علی خان نے کہا کہ گندا پانی اپنے ساتھ نامیاتی پانی ساتھ لیکر جاتا ہے، گندا پانی جہاں تک سمندر کو متاثر کرتا ہے وہاں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے اور آکسیجن کی کمی کے سبب سمندری حیات متاثر ہوتی ہے، کلفٹن کے ساحل پر مردہ آنے والی مچھلیاں بوئی کہلاتی ہیں جو عموماً کنارے کے قریب پائی جاتی ہیں، کنارے کے قریب رہنے کی وجہ سے مچھلیوں کی یہ قسم زیادہ متاثر ہوتی ہے، ماضی میں بھی بارشوں کے بعد سینکڑوں مردہ مچھلیاں کنارے پر آتی رہی ہیں، اس بار تعداد پہلے کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔

ترجمان کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق ساحل پر مردہ مچھلیوں سے متاثرہ مقامات کی صفائی کا کام اتوار کی صبح ہی شروع کردیا گیا تھا جس کے دوران نشان پاکستان اور بیچ ویو پارک کے سامنے موجود سمندری پٹی کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

ترجمان سی بی سی کے مطابق صفائی کا کام بھاری مشینری کے استعمال سے کیا جارہا ہے جب کہ اتوار کی شام کو مزید مردہ مچھلیاں لہروں کے ساتھ بہہ کر آگئی، جس کے سبب ساحل کی صفائی کا کام روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

Source link

بھارتی مسلمان ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں، گدی نشین درگاہ اجمیر شریف

0

خادم درگاہ اجمیر شریف نے پہلو خان کے قاتلوں کو بری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ فوٹو : ویڈیو گریب

خادم درگاہ اجمیر شریف نے پہلو خان کے قاتلوں کو بری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ فوٹو : ویڈیو گریب

نئی دلی: درگاہ اجمیر شریف کے خادم سید سرور چشتی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی مسلمان ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں درگاہ اجمیر شریف کے خادم سید سرور چشتی نے گائے کی اسمگلنگ کے الزام کے تحت مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے قتل ہونے والے پہلو خان کے قاتلوں کی بھارتی عدالت سے رہائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یوم آزادی پر مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟

یہ خبر پڑھیں : بھارتی پولیس مسلمان دشمنی میں اندھی، مقتول کو ہی قتل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

درگاہ اجمیر شریف کے خادم نے مضطرب لہجے میں سوال اٹھایا کہ یہ کیسا بھارت ہے؟ جہاں قاتل آزاد اور مقتول کے غمزدہ لواحقین گرفتار ہو رہے ہیں، کیا پہلو خان کو آسمان سے بھوتوں نے آکر قتل کیا تھا؟ جو چھ کے چھ ملزمان کو بری کردیا گیا ؟ اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مقتول کے دونوں بیٹوں کو گائے کی اسمگلنگ میں پابند سلاسل کردیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : بھارت میں گائے لے جانے پر مسلمان شہری کے قتل کے 6 ملزم بری

واضح رہے کہ دو ماہ قبل بھارتی ریاست راجھستان میں گائے ماتا کی رکھوالی کے نام پر مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان پہلو خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر قتل کردیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرنا پڑا تھا تاہم شواہد کے باوجود چھ کے چھ ملزمان کو بری کردیا گیا۔

Source link

امریکا میں طیارہ گھر پر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک

0

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں جہاز کے مسافر اور گھر کے مکین بھی شامل ہیں (فوٹو : فائل)

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں جہاز کے مسافر اور گھر کے مکین بھی شامل ہیں (فوٹو : فائل)

 نیویارک: امریکا میں مسافر بردار چھوٹا طیارہ ایک گھر پر گر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار ایک شخص ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے جب کہ گھر میں آتشزدگی کے باعث 2 مکین ہلاک اور ایک زخمی ہوگئے۔

بین الااقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں ایک چھوٹا طیارہ پائلٹ اور 2 مسافروں کو لے کر محو پرواز تھا کہ انجن میں خرابی کے باعث نیویارک کے ایک گھر پر گر کر تباہ ہوگیا، طیارے میں سوار ایک شخص ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

طیارہ جس گھر پر گرا وہاں آگ بھڑک اُٹھی جس میں جھلس کر 2 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ ایک شدید زخمی ہے، مجموعی طور پر اس حادثے میں 3 ہلاک اور 3 زخمی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

فائر بریگیڈ کے عملے نے ایک گھنٹے کی محنت کے بعد گھر میں لگی آگ پر قابو پالیا جس کے بعد ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے جہاز کے ملبے کو اُٹھایا اور لاشیں نکال لیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

Source link

دیر بالا میں مسافر گاڑی کے قریب دھماکا، 6 افراد جاں بحق

0

دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی بھی ہوئے، ڈی پی او، فوٹو: فائل

دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی بھی ہوئے، ڈی پی او، فوٹو: فائل

دیر بالا: خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں مسافر گاڑی کے قریب دھماکے میں کم ازکم 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دھماکا دیر بالا کے علاقے حیاگئی میں ہوا جہاں ایک ڈبل کیبن گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ بعض زخمی ہوئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 2 زخمی چل بسے۔

ضلع پولیس افسر(ڈی پی او) نے دھماکے میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جائے دھماکا سے امدادی کارروائیاں مکمل کرکے اسے سیل کردیا گیا ہے، تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور ڈی ایچ کیو میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمیوں کی تعداد 5 ہے جنہیں ڈی ایچ کیو میں طبی امداد دی جارہی ہے جب کہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔

Source link

پاکستانی ماہرین نے ذیابیطس کے زخم مندمل کرنے والی انقلابی پٹی تیارکرلی

0

لاہور میں کامیسٹس کی ٹٰیم اپنی تجربہ گاہ میں موجود ہے اور چھوٹی تصویر میں نئی ایجاد کو دیکھا جاسکتا ہے جو زخم مندمل کرنے کے لیے ایک اہم ایجاد ثابت ہوئی ہے۔ تصویر میں بائیں سے تیسرے نمبر پر ڈاکٹر محمد یار نمایاں ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ڈاکٹر محمد یار

لاہور میں کامیسٹس کی ٹٰیم اپنی تجربہ گاہ میں موجود ہے اور چھوٹی تصویر میں نئی ایجاد کو دیکھا جاسکتا ہے جو زخم مندمل کرنے کے لیے ایک اہم ایجاد ثابت ہوئی ہے۔ تصویر میں بائیں سے تیسرے نمبر پر ڈاکٹر محمد یار نمایاں ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ڈاکٹر محمد یار

کراچی: پاکستانی اور برطانوی ماہرین نے شکر سے ہی بنی ایسی ڈریسنگ بنائی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں مندمل نہ ہونے والے زخموں کو ناسور کو ٹھیک کرکے ممکنہ طور پر انہیں اعضا کی محرومی سے بچاسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں شکر سے بنی پٹی استعمال کی گئی ہے جو شوگر کے زخموں کو مندمل کرسکتی ہے۔

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے لاہور کیمپس میں واقع بین الموضوعاتی تحقیقی مرکز برائے حیاتیاتی و طبی مٹیریل ( آئی آر سی بی ایم) نے برطانیہ کی شیفلڈ یونیورسٹی کے تعاون سے  اس نئی ٹیکنالوجی کی چوہوں پر کامیاب آزمائش کی ہے اور اس کے نتائج ایک اہم طبی تحقیقی جریدے میں شائع کئے ہیں۔

محققین نے پہلے دنیا بھر میں ذیابیطس کے زخموں پر عام استعمال کی جانے والی ایلجینیٹ ڈریسنگ استعمال کی۔ اس کے بعد ماہرین نے ٹو ڈی آکسی رائبوس (ٹو ڈی ڈی آر) کو اس پٹی کے پھائے پر لگایا۔ واضح رہے کہ ٹو ڈی ڈی آر ایک قسم کی شکر ہے جو زخم بھرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور تجربات سے اس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ ماہرین نے پہلے چوہوں کو شوگر کا مریض بنایا اور اس کے بعد ان میں گہرائی تک زخم لگائے۔ اگلے مرحلے میں ٹوڈی ڈی آر والی ایلجینیٹ پٹی ان کے زخمو پر لگائی گئی۔ اس عمل سے ذیابطیس کے ناسور نہ صرف تیزی سے بھرے بلکہ ان میں خون کی نئی نالیاں بھی بننے لگیں جو زخم مندمل کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ رگوں کے دوبارہ بننے کا یہ عمل طبی زبان میں ’اینجیوجنیسِس‘ کہلاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ رگوں ، شریانوں اور وریدوں میں صرف خون ہی نہیں بہتا بلکہ اس کے ساتھ بہت سے ضروری اجزا بھی ایک سے دوسری جگہ پہنچتے ہیں جو زخم مندمل کرنے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی باریک شریانیں بہت بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے شوگر کے مریضوں کے زخم ٹھیک ہونے میں بہت وقت لگاتے ہیں۔ اس کی وجہ اینجیوجنیسِس کا غائب ہونا بھی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ زخم ٹھیک ہونے کی بجائے بڑھتا رہتا ہے اور مریض کے عموماً پیروں کو کاٹنا پڑتا ہے۔

شکر سے شوگر کے زخم کا علاج

ماہرین نے اپنی ایجاد کی آزمائش کے لیے ذیابیطس کے مریض چوہوں کے جسم پر 20 ملی میٹر کے زخم لگائے۔ اس کےبعد ان زخموں پر تین اقسام کی پٹیاں لگائی گئیں۔ ایک چوہے کے زخم پر صرف روایتی ایلجنیٹ پٹی باندھی گئی، دوسرے پر 5 فیصد ٹوڈی ڈی آر اور تیسرے پر 10 فیصد ٹو ڈی ڈی آر والے پھائے رکھے گئے۔

اب احتیاط سے ان زخموں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا اورمرہم پٹی کے پہلے، چوتھے، ساتویں، گیارہوں، چودھویں اور بیسویں روز زخم کی تصاویر لی گئیں۔ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین نے ایک اہم بات دریافت کی۔

قابلِ قدرکامیابی

اپنی تحقیق کے دوران ماہرین نے درست ہوتے ہوئے زخموں کی جلد سے بافتوں (ٹشوز) کے بعض ٹکڑے لیے ان پر ایک خاص قسم کی ڈائی ڈالی اوراس کی روشنی میں دیکھا گیا تو ان پر حیرت انگیز انکشاف ہوا: وہ یہ کہ زخموں میں خون کی نئی شریانیں بنیں جس کی بدولت زخم تیزی سے مندمل ہونے لگے۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی ذیابیطس کے مریضوں کے زخم کو نہ صرف تیزی سے مندمل کرسکتی ہے بلکہ نئی جلد بناتی ہیں جو اس ٹیکنالوجی کی ایک اہم کامیابی بھی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح ہزاروں مریضوں کے اعضا کٹنے سے بچائے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کی انسانوں پر آزمائش ضروری ہے۔

’ ہم نے درست ہوتے ہوئے زخموں کو بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں نئی جلد پروان چڑھ رہی ہے،‘ آئی آر سی بی ایم سے وابستہ معاون پروفیسر ڈاکٹر محمد یار نے بتایا جو کامسیٹس یونیورسٹی کے لاہور کیمپس میں ٹشو انجینیئرنگ کے کلسٹر ہیڈ بھی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی تکینک سے تیار شدہ ڈریسنگ کمرے کے درجہ حرارت پر طویل عرصے تک کارآمد رکھی جاسکتی ہے یعنی اسے ایک مقام سے دوسری جگہ بھیجنے کے لیے خصوصی انتظامات کی ضرورت نہیں رہتی۔

اس تحقیق کے لیے آسٹریلیا کی بایوٹیک کمپنی کینینٹا نے کی ہے جس کی تفصیلات ’جرنل آف بایومٹیریلز ایپلی کیشنز‘ میں شائع ہوئی ہے۔    

’ ہم نے جلد پر کئی تجربات کئے ہیں اور ذیابیطس میں مندمل نہ ہونے والے زخموں کو تیزی سے بھرتے ہوئے، اینجیو جنیسس اور نئی جلد بننے کے عمل کا مشاہدہ کیا ہے۔ چوہوں پر تجربات میں معلوم ہوا کہ اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔‘ ڈاکٹر محمد یار نے ایکسپریس کو بتایا۔

پیٹنٹ اور انسانی آزمائش

ڈاکٹر محمد یار نے مزید بتایا کہ شکر والی ڈریسنگ کے ضمن میں پاکستان، برطانیہ اور عالمی سطح پر تین پیٹنٹ (حقِ ملکیت) کی درخواست دائر کی جاچکی ہیں اور جلد ہی انسانی آزمائش شروع کی جائے گی۔

’ امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک انسانوں پر اسے آزمایا جائے گا اور کینینٹا کمپنی اسے پوری دنیا میں فروخت کرے گی۔ تاہم ایک اور پاکستانی کمپنی کو اس کی تیاری کا لائسینس دیا گیا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے نسبتاً کم خرچ ڈریسنگ تیار کی جاسکیں۔‘ ڈاکٹر محمد یار نے بتایا۔

ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک بڑا مرض ہے اور 2035 تک زمین پر 50 کروڑ 92 لاکھ افراد اس کے شکار ہوں گے۔ ان میں سے 15 فیصد مریض کے زخم مزید پیچیدہ اور گہرے ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی ایک بڑی تعداد کے اعضا بریدگی کے عمل سے گزرتے ہیں۔

پاکستان میں ذیابیطس

پاکستان میں ذیابیطس کا مرض تیزی سے پھیل کر ہسپتالوں پر ایک بوجھ بنتا جارہا ہے لیکن اب تک مریضوں کی درست تعداد معلوم نہیں کی جاسکی ہے۔ تاہم 2017 کے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ذیابیطس کا مرض خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹس اینڈ اینڈوکرائنولوجی (بی آئی ڈی ای) نے وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے ایک سروے کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ساڑھے تین سے تین کروڑ 80 لاکھ افراد اس مرض کے شکار ہیں۔

سال 2017 میں کئے گئے ایک بین الاقوامی سیمینار میں کہا گیا تھا کہ ہر سال پاکستان میں ڈیڑھ سے دو لاکھ مریضوں کے پیر کے نچلے حصے کاٹے جاتے ہیں کیونکہ ان کے زخم نہ ٹھیک ہونے والا ناسور بن جاتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اعضا کٹنے کے بعد بھی 70 فیصد مریض اگلے پانچ برس میں فوت ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ عضو کٹنے کے بعد جسم میں خون کی روانی اور دیگر جسمانی عوامل شدید متاثر ہوتے ہیں۔

اسی لیے اگر ذیابیطس کے زخم بروقت درست ہوجاتے ہیں تو اس سے عضو بریدگی کے آخری اور تکلیف دہ امرسے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ اب شکر پر مبنی اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف مریضوں کے زخم درست کئے جاسکتے ہیں بلکہ پوری دنیا کے ہسپتالوں کے سرجن حضرات پر مرض کا دباؤ بھی کم کرنا ممکن ہے۔

اس اہم تحقیقی کام میں ڈاکٹر محمد یار، مریم اعظم، پروفیسر احتشام الرحمان اور ڈاکٹر عاکف انور چوہدری شامل ہیں جو کامسیٹس یونیورسٹی میں واقع آئی آر سی بی ایم سے تعلق رکھتےہیں۔ دوسری جانب برطانیہ کی شیفلڈ یونیورسٹی سے وابستہ  ڈاکٹر شیلا میک نیل، ڈاکٹر سیبینیانو رومن اور ڈاکٹر سرکان ڈکیشی بھی اس ٹیم کے فعال اراکین ہیں۔

واضح رہے کہ آئی آر سی بی ایم پاکستان میں ٹشو انجینیئرنگ اور بایومیڈیکل تحقیق سے وابستہ واحد کثیرالموضوعاتی تحقیقی ادارہ ہے جو 2008 میں قائم کیا گیا تھا۔ اپنے تحقیقی کام کی بدولت اب تک ادارے نے 400 سےزائد تحقیقی مقالے شائع کرائے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیرملکی درجنوں گرانٹس اور پیٹنٹس حاصل کی ہیں۔

کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد

1998 میں کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ان ساؤتھ (کامسیٹس) کے ذیلی منصوبے کے تحت کامسیٹس اسلام آباد یونیورسٹی (سی یو آئی) قائم کی گئی تھی۔ اب یہ جامعہ ملک میں تحقیق و ترقی، دریافت اور علم کے فروغ کا ایک اہم ادارہ بن چکی ہے۔ پورے ملک میں اس کے 8 کیمپس واقع ہیں جہاں 37 ہزار سےزائد طلبا و طالبات علم حاصل کررہے ہیں۔ تحقیق اور تعلیم کے ضمن میں سی یو آئی ممتاز ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ ایشیائی جامعات ( کیو ایشین یونیورسٹیز) میں یہ 190 نمبر پر ہے۔

Source link

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لئے مفت تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولت ختم

0

محکمہ صحت نے صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد نئے ریٹس کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ فوٹو : فائل

محکمہ صحت نے صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد نئے ریٹس کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ فوٹو : فائل

 لاہور:  پنجاب حکومت نے تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں کی سہولت ختم کردی ہے۔

پنجاب حکومت نے غریب عوام پر ایک اور بوجھ ڈالتے ہوئے تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں کی سہولت ختم کردی، محکمہ صحت نے صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد نئے ریٹس کا مراسلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں سٹی اسکین ٹیسٹ ایک ہزار سے 2500 روپے جب کہ الٹرا ساونڈ 150 روپے میں ہوگا، ایمرجنسی کا ٹیسٹ ٹروپ ٹی 600 روپے اور تھائی رائڈ ٹیسٹ 200 سے 900 روپے میں ہوگا تاہم صرف ایمرجنسی وارڈمیں داخل مریضوں کے ٹیسٹ مفت کیے جائیں گے۔

Source link

حسن علی نے شادی کے لیے نیا ہیر اسٹائل بنوالیا

0

 حسن علی کا نکاح بھارتی فلائٹ انجینئر سے 20 اگست کو دبئی میں ہو رہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

حسن علی کا نکاح بھارتی فلائٹ انجینئر سے 20 اگست کو دبئی میں ہو رہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

 لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے بھارتی لڑکی سامعہ سے نکاح کے لیے نیا ہیر اسٹائل بنالیا ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے اپنی شادی کے لیے نیا ہیر اسٹائل بنوالیا ہے، پیسر نے بالوں کا اسٹائل بدلنے کے بعد تصاویر بھی شیئر کی ہیں جس میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ خاصے خوش دکھائی دے رہے ہیں، حسن علی کا نکاح بھارتی فلائٹ انجینئر سے 20 اگست کو دبئی میں ہو رہا ہے۔

پروگرام کے مطابق حسن علی اور ان کے گھر والے 20 اگست کو دبئی پہنچیں گے اور اسی روز نکاح کی تقریب ہوگی جس میں دونوں گھرانوں کے تقریبا 25 افراد کو مدعو کیا گیا ہے جب کہ نکاح کے بعد باقاعدہ رخصتی 2 سے 3 ماہ بعد ہوگی، حسن علی اور ان کے اہل خانہ کی 22 اگست کو وطن واپسی کا پلان شیڈول ہے۔

Source link

45 بچیوں سے زیادتی کا معاملہ؛ تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل

0

قاسم اپنی بیوی کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا فوٹو: فائل

قاسم اپنی بیوی کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا فوٹو: فائل

 راولپنڈی: کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم 45 بچیوں سے زیادتی اور انہیں بلیک کرنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

چند روز قبل راولپنڈی پولیس نے درجنوں لڑکیوں کے اغوا اور زیادتی کے الزام میں میاں بیوی کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں ملزم زیر حراست ہیں تاہم درندگی کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ کی شکایت پر تفتیشی افسر کو ہٹادیا گیا تھا۔ جس کے بعد اب 8 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

معاملے کی تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد فیصل کررہے ہیں، اس کے علاوہ ایس پی راول آصف محمود، ڈی ایس پی سٹی فیصل سلیم، ایس ایچ او سٹی حمد شیرازی، خاتون آفیسر اے ایس پی آمنہ بیگ، تفتیشی افسر اور راولپنڈی پولیس کے آئی ٹی ایکسپرٹس بھی ٹیم میں شامل ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے ملزم اور ملزمہ سے تفتیش بھی شروع کردی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم قاسم بظاہر ویب سائٹ پر اینٹی وائرس پرگرام اور دیگر سافٹ ویئر فروخت کرتا ہے، اس نے اپنی ویب سائٹ بنا رکھی ہے اور سوشل میڈیا بلاگر بھی ہے۔ قاسم جہانگیر اور کرن محمود کی شادی تین سال قبل انجام پائی لیکن دونوں کی کوئی اولاد نہیں۔

ملزم قاسم اپنی بیوی کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا اور اس کی بیوی کرن اپنے خاوند کی لڑکیوں سے زیادتی کی ویڈیو بناتی تھی۔ ملزم میاں بیوی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اب تک 45 لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکے ہیں، ان سے 10 واقعات کی برہنہ ویڈیوز اور ہزاروں تصاویر بھی برآمد ہوئیں تھیں۔

Source link

Must Read