Home Authors Posts by HairStyleBy

HairStyleBy

576 POSTS 0 COMMENTS

مسافروں کو 9 لاکھ 40 ہزار کا اضافی کرایہ واپس کروا دیا، وزیرٹرانسپورٹ

0

اضافی کرایہ لینے والی مسافر گاڑیوں پر 4 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانہ کیاگیا، اویس شاہ۔ فوٹو: فائل

اضافی کرایہ لینے والی مسافر گاڑیوں پر 4 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانہ کیاگیا، اویس شاہ۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ حکومت نے مسافروںکو9 لاکھ سے زائد اضافی کرایہ واپس کروادیا اور20 سے زائد مسافرگاڑیوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کردیے۔

وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے سندھ بھرمیں 9 روز کے دوران مسافر وںکو 9 لاکھ 40 ہزار روپے اضافی کرایہ واپس کروایا،اضافی کرایہ لینے والی مسافر گاڑیوں پر 4 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانہ کیاگیا۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایاکہ کراچی اور دیگر شہروں میں اضافی کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرزکیخلاف کارروائی کی گئی اور 20 سے زائد مسافرگاڑیوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کردیے گئے۔

 

Source link

چلنے اور دوڑنے میں مددگار روبوٹک نیکر

0

امریکی ماہرین نے روبوٹک نیکر بنائی ہے جو چلنے اور دوڑنے کی رفتار بڑھاتی ہے اور اس میں مشقت بھی کم لگتی ہے (فوٹو: نیوسائنٹسٹ)

امریکی ماہرین نے روبوٹک نیکر بنائی ہے جو چلنے اور دوڑنے کی رفتار بڑھاتی ہے اور اس میں مشقت بھی کم لگتی ہے (فوٹو: نیوسائنٹسٹ)

نبراسکا: امریکی انجینئرز نے اسپورٹس میں استعمال ہونے والی ایک نیکر میں تبدیلی کرکے اسے بیرونی (ایکسو) سوٹ کا درجہ دیا ہے، اب یہ نیکر چلنے، دوڑنے اور اونچائی پر چڑھنے کی قوت میں اضافہ کرسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف نبراسکا اوماہا کے فلپ میلکم اور ان کے ساتھیوں نے ایک لچک دار سوٹ بنایا ہے جو چلنے میں لگنے والی جسمانی مشقت کو 9 فیصد اور دوڑنے میں لگنے والی طاقت میں 4 فیصد کمی کرسکتا ہے۔

اگرچہ اس میں سب سے اہم حصہ نیکر کا ہے جو بطور خاص تیارکی گئی ہے لیکن یہ اس نوعیت کی پہلی ایجاد نہیں بلکہ اس سے قبل کئی اداروں نے بھاگ دوڑ اور مشقت کم کرنے والے لباس یا ایکسو اسکیلیٹن نامی بیرونی ڈھانچے تیار کیے ہیں لیکن فلپ میلکم کہتے ہیں کہ ان کا لباس چلنے اور دوڑنے میں یکساں مددگار ہے، یہ ایسے لوگوں کے لیے مفید ہے جن کا کام ہی بھاگنا اور دوڑنا ہوتا ہے جن میں مددگار عملہ، ریسکیو اہلکار، فائر فائٹرز اور عسکری افراد شامل ہیں۔

اسے لباس کو ہلکا نہ سمجھیے کیونکہ اس کا وزن قریباً 5 کلوگرام ہے۔ پوشاک دونوں رانوں پر چڑھائی جاتی ہے جو کپڑے سے بنے ایک بیلٹ سے جڑی ہے۔ اب جب پہننے والا دوڑتا یا چلتا ہے تو بیلٹ سے آنے والی لچک دار پٹیاں اور تار رانوں کو کھینچتے ہیں اور کولہوں کے پھیلاؤ میں مدد دیتے ہیں، اس طرح اسے پہن کر چلنے اور بھاگنے والے فرد کو زیادہ توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس کی مزید تفصیل میں جائیں تو اس میں خودکار سینسر لگے ہیں جو خود اندازہ کرتے ہیں کہ کوئی بھاگ رہا ہے یا چل رہا ہے، ساتھ ہی یہ ٹانگوں کی پوزیشن کو بھی نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس میں ایک موٹر نظام بھی نصب ہے جو جسم کی توانائی کی بچت کرتا ہے اور یوں چلنے اور دوڑنے میں آسانی ہوتی ہے۔

ماہرین نے اس نیکر کو 9 لوگوں کو پہنا کر انہیں ٹریڈ مل (دوڑنے کی مشین) پر چلایا اور انہیں بھاگنے کی مشق بھی کرائی گئی۔ روبوٹ نیکر کے ساتھ اور اس کے بغیر دونوں طرح کی مشقوں میں غیر معمولی فرق دیکھا گیا۔ اب اگلے مرحلے میں رضا کاروں پر اس کے مزید تجربات کیے جائیں گے۔

Source link

کشمیری بنیادی ضرورتوں سے محروم

0

آج کشمیر میں کرفیو لگے 12 دن گزر چکے ہیں کشمیری بہن بھائی ضروریات زندگی سے محروم کردیے گئے ہیں، ہو کا عالم ہے، گہرا سناٹا اور گھروں میں معصوم بچوں کی قلقاریوں کی جگہ دودھ کی طلب نے انھیں سسکنے اور رونے پر مجبور کردیا ہے۔

انسانیت کے خدمت گار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، سلامتی کونسل، اقوام متحدہ، ریڈ کراس، این جی اوز ان فلاحی اداروں نے مقبوضہ کشمیر میں جاکر بھوکے پیاسے بچوں کو کھانا اور دوائیں فراہم نہیں کی ہیں، ضعیف، معذور، چھوٹے، بڑے سب ہی اندھیر نگری کے قیدی بن گئے ہیں۔

بھارتی یوم آزادی پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا ہے اور یوم سیاہ منایا گیا، پاکستان میں بھی جگہ جگہ سیاہ لباس اور سیاہ پٹیاں باندھ کر بھارتی دہشت گردی اور اس کے ظلم کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، مسئلہ کشمیر پر 50 سال بعد سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، اگر انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے تب اچھے نتائج کی امید کی جاسکتی ہے گو کہ پوری دنیا اور امن کی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، بھارتی فوجیوں نے پیلٹ گن کا استعمال دیدہ دلیری سے کیا ہے، ہزاروں لوگوں کے چہروں کو چھلنی کردیا اور بینائی ضایع کی گئی، کشمیری اسلحے سے محروم ہیں جب کہ ان کے پاس جدید اسلحہ ہے وہ پتھر مارتے ہیں اور یہ اسلحے کے ذریعے ان نوجوانوں کی جان لیتے ہیں۔

جن کا کوئی قصور نہیں، سوائے اس کے کہ وہ آزادی کے متوالے ہیں اور پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں ان کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم ہے اس کی سزا یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو بھارتی فوجی پکڑ کر لے جاتے ہیں اور تشدد کرکے شہادت کے درجے پر پہنچا دیتے ہیں۔ کشمیری اپنوں کے جنازوں کو کاندھا دیتے اور گریہ و زاری کرتے ہوئے تھک چکے ہیں، آنسو خشک ہوگئے ہیں۔ بھارت 72 سال سے مسلسل کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے، ماؤں کے کلیجوں کو ہتھیاروں کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے، باعفت خواتین کی عزت کو پامال کر رہا ہے اور اب تو اس نے اپنے طور پر تاریخ ہی بدل دی۔

اپنے لیڈروں کو جھوٹا ثابت کر دکھایا ہے پنڈت جواہر لال نہرو کی ان تقاریر کی دھجیاں بکھیر دیں جن میں انھوں نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا تھا اور کہا تھا کہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں گے جو وہ چاہیں گے، بار بار معاہدے بھی ہوئے جنرل پرویز مشرف اور سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اسی لیے ہوئے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو اور کشمیری جو سالہا سال سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں انھیں زندگی گزارنے کے لیے مکمل آزادی حاصل ہو۔ پھر شملہ معاہدہ بھی ہمارے سامنے ہے گزشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کا مقدمہ کسی نہ کسی طرح لڑا جا رہا ہے لیکن ایسا پہلی بار ہوا۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطرناک کھیل کھیلا اور جغرافیائی محل وقوع کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ دراصل مودی جی کو ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات نے خوفزدہ کردیا اور انھوں نے ایک ایسا فیصلہ کرکے تاریخ کا رخ موڑنے کی کوشش کی جو ان کے ہی گلے کا پھندہ بن گیا اور ذلت آمیز شکست مودی اور بی جے پی کا مقدر بنے گی۔ ظلم ایک دن ضرور رنگ لاتا ہے اور اللہ رب العزت ہر رات کے بعد صبح کا سورج طلوع کرتا ہے۔

مسلم حکمرانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی بے چارگی کو دیکھتے ہوئے خاموشی کی چادر تان لی اور اپنے لبوں پر مہر لگالی ہے۔ مجال ہے جو انھوں نے فلسطین، بوسنیا اور کشمیر کے حالات پر آواز اٹھائی ہو۔ یہ خاموشی اور بے حسی دشمن کو نڈر بنا دیتی ہے جس طرح ہسپانیہ میں ہوا۔ ہسپانیہ میں 800 سال حکومت کرنے والوں کو سمندر کی نذر کردیا گیا ایک بچہ بھی نہ بچا، دھوکہ دے کر انھیں جہازوں میں بھر کر روانہ کیا گیا کہ انھیں پناہ دی جائے گی۔ اور جب اندلس کے حالات زیادہ خراب ہوئے تو بربروں نے عربوں کا قتل عام شروع کردیا، اندلس کے باشندے بھی ان کے ساتھ ہولیے اسی دوران یمنی اور مصری عربوں میں خانہ جنگی اور اندلس میں خونریزی شروع ہوگئی۔

اندلس کے بربر شروع میں بربر حکومت کے خلاف اٹھے تھے لیکن پھر ان کی مخالفت عربوں تک وسیع ہوگئی اور انھوں نے جلیقیہ اور استزقہ وغیرہ سے جہاں جہاں عرب آباد تھے ان کو نکال کر قتل عام شروع کردیا اور عرب ہر طرف سے اکٹھا ہوکر اندلس میں جمع ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب قیروان کے عرب اس وقت خطرہ محسوس کرنے لگے جب بربر نے شامی فوج کو شکست دے دی۔ اور قیروان سے تین میل کے فاصلے پر خیمہ زن ہوئے۔ اب جنگ کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

علما جہاد کرنے کی ترغیب اپنی تقاریر کے ذریعے دے رہے تھے، خواتین بھی پرجوش تھیں وہ اپنی عزت اور شکست کا احساس دلا رہی تھیں کہ ہارنے کے بعد کچھ نہیں بچتا ہے، عزت، جان و مال، اقتدار، آزادی سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے، اسی وجہ سے عرب اس جانبازی سے حملہ آور ہوئے کہ تلواریں ٹوٹ گئیں اور بربر کی ٹڈی دل فوج کو شکست سے دوچار کیا۔ عربوں نے دور تک ان کا تعاقب کیا اور قتل کرکے ان کا نام و نشان مٹا دیا اس جنگ میں دو لاکھ کے قریب بربری کام آئے اور شمالی افریقہ میں ان کی قوت ٹوٹ گئی۔

آج بھی مسلم ممالک صرف اور صرف اپنے مفادات کی بات کرتے ہیں نہ جہاد پر ان کا یقین ہے اور نہ مسلمانوں کی جان و مال کا خیال۔ اگر خیال یا یقین ہے تو وہ جانتے ہیں کہ جہاد کا حکم اللہ نے دیا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور جنگ بدر کا واقعہ بھی منافقت اور جہاد کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے تو قرآنی تعلیمات کے تناظر میں بھلا کون سا مسلمان ایسا ہوگا جو جہاد کی فرضیت پر یقین کامل نہ رکھتا ہو؟

لیکن کیا کیا جائے دنیا کی طلب نے اسلامی احکامات کی روگردانی کرنے پر مجبور کردیا ہے عیش و عشرت نے غفلت کا غلاف بصیرت و بصارت پر چڑھا دیا ہے۔ امت مسلمہ کا ہر فرد اس بات پر ضرور غور کرے۔ آج دوسرے اسلامی ممالک سپر پاور طاقتوں کے ہاتھ پامال ہوئے، کل اللہ نہ کرے ہماری باری بھی آسکتی ہے۔ اس لیے اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا ہو جائے تب ہمارے کشمیری بھائیوں کی طرح کوئی اس قدر کرب سے نہیں گزرے گا۔

بھارت ایک بددیانت، طمع پرست اور غیر مہذب ملک ہے، اس کے غاصبانہ عمل نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد میں عید کی نماز پر بھی پابندی لگا دی لیکن بہادر جری کشمیری جن کی عظمت، ہمت اور شجاعت کو سلام کہ وہ کرفیو کے باوجود نماز جمعہ اور عید کی نماز کے لیے جوق در جوق باہر نکلے، سر پر کفن باندھ کر پھر وہی ہوا بھارتی افواج نے عبادت کرنے والوں پر گولیاں برسائیں اور کئی نوجوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ یہ کیا جانیں جذبہ ایمان اور شوقِ شہادت کیا چیز ہے؟

دواؤں اور خوراک کی قلت نے قحط جیسی صورتحال پیدا کردی اور بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون بے دردی سے بہایا۔ کیا یہ انسان نہیں ہیں؟ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے؟ اتنا ظلم نہ کریں کہ خود بھی انھی حالات کا شکار ہوجائیں۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے، ہر عروج کو زوال ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔

Source link

بھارت میں پسند کی شادی کرنے والی کم سن لڑکی پر تشدد، ویڈیو وائرل

0

14 سالہ لڑکی اپنے کزن کے ساتھ شادی کے لیے گھر سے فرار ہوگئی تھی (فوٹو : بھارتی میڈیا)

14 سالہ لڑکی اپنے کزن کے ساتھ شادی کے لیے گھر سے فرار ہوگئی تھی (فوٹو : بھارتی میڈیا)

نئی دلی: بھارت میں پسند کی شادی کے لیے اپنے کزن کے ساتھ فرار ہونے والی 14 سالہ لڑکی کو گاؤں کی پنچایت نے سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کم سن لڑکی کو لاٹھیوں، لاتوں اور گھونسوں سے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور میں پیش آیا جہاں پنچایت کے ارکان نے 14 سالہ لڑکی کو پسند کی شادی کا اظہار کرنے پر سرعام ذلیل کیا اور تشدد کرتے رہے۔

گاؤں کی پنچایت نے 20 سالہ کزن کو زمین پر بٹھا کر سرجھکائے رکھنے کا حکم دیا اور پھر کم سن لڑکی کو پیش کیا گیا جس نے پوچھ گچھ کے دوران کزن سے شادی کا اظہار اور فرار ہونے کا اقرار کیا جس پر گاؤں کے پنچایتی لیڈر نے کم سن لڑکی کو مارنا شروع کردیا۔

سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور لڑکی سے والدین سے ملاقات کی تاہم والدین سمیت گاؤں کے کسی شخص نے پنچایت کے خلاف درخواست دائر کرنے سے انکار کردیا۔ پولیس نے لیڈی کانسٹیبل کو متاثرہ لڑکی سے ملنے اور بیان لینے کے لیے بھیج دیا۔

Source link

ایٹمی حملے کی دھمکیاں دینے والے بھارت کے عوام پاکستانی غباروں سے خوفزدہ

0

گاؤں کے مکین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی غباروں کا اڑتے ہوئے بھارتی حدودمیں داخل ہونا بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے، فوٹو: ایکسپریس

گاؤں کے مکین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی غباروں کا اڑتے ہوئے بھارتی حدودمیں داخل ہونا بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے، فوٹو: ایکسپریس

 لاہور: مقبوضہ کشمیر تنازعہ کے بعد پاکستان کو ایٹمی حملے کی دھمکیاں دینے والے بھارت کے عوام پاکستانی غباروں سے بھی خوف کھانے لگے ہیں ۔

پاکستان اوربھارت کی سرحد کے قریب فرید کوٹ کے نواحی گاؤں شمروالا میں بھارتی کسان اپنے کھیتوں میں پاکستانی جھنڈے والے غبارے دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے اور اسے بھارتی خفیہ اداروں کی نااہلی قراردیتے رہے۔

لاہورمیں مقیم ایک سکھ فیملی کے بزرگ سردارگورویندرسنگھ نے ایکسپریس کوبتایا کہ ان کے کچھ رشتہ دار فریدکوٹ کے سرحدی گاؤں شمروالامیں رہتے ہیں۔16 اگست کوان کے ایک رشتہ دار نے انہیں مقبوضہ کشمیر کے بعد پیداہونیوالی کشیدگی کے باعث حال احوال جاننے کے لیے فون کیا، گفتگوکے دوران ان کے رشتہ دار نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے لوگ کافی خوفزدہ ہیں جس کی وجہ گاؤں کے کھیتوں سے ملنے والے جاسوس غبارے ہیں۔ گاؤں کے ایک کسان کرم جیت سنگھ کواپنے کھیتوں سے تین، چار غبارے ملے ہیں جن پر پاکستانی جھنڈا اور اردو میں تحریر درج ہے۔ پاکستانی غباروں کے بھارت پہنچنے پر گاؤں کے لوگ پریشان اور خوفزدہ ہیں۔

گاؤں کے مکین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی غباروں کا اڑتے ہوئے بھارتی حدودمیں داخل ہونا بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے۔ اگرغبارے ہوا میں اڑکرآسکتے ہیں تو کوئی اور چیز بھی آسکتی ہے۔ کبھی پاکستان سے جاسوس کبوتر آجاتے ہیں تواب غبارے پہنچ گئے ہیں۔

گورویندر سنگھ کے مطابق انہوں نے اپنے رشتہ دار کو بتایا کہ پاکستان کے یوم آزادی پر 14 اگست کو فضا میں چھوڑے گئے غبارے اڑتے ہوئے بارڈرکراس کرگئے اور بھارتی کھیتوں میں جاگرے ہوں گے، یہ کوئی سازش نہیں ہے اور گاؤں کے لوگوں کو اس طرح خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔

Source link

جنوبی وزیرستان میں دھماکا، سیکیورٹی فورسز کے 2 اہلکار شہید

0

فورسز کی گاڑی بدر بریج کے قریب کھڑی تھی جسے  آئی ڈی دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، سیکیورٹی ذرائع (فوٹو :فائل)

فورسز کی گاڑی بدر بریج کے قریب کھڑی تھی جسے آئی ڈی دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، سیکیورٹی ذرائع (فوٹو :فائل)

ڈیرہ اسماعیل خان: بدر بریج کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہونے والے دھماکے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے بدر بریج میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا، دھماکے کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید جب کہ 3 زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑی بدر بریج کے قریب کھڑی تھی کہ زور دار دھماکا ہوگیا، دھماکا آئی ڈی تھا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ شہید اور زخمیوں کو استپال پہنچا دیا گیا۔

Source link

کراچی میں اگلے 3 روز کے دوران بارش کا امکان

0

رات اور صبح کے اوقات میں کہیں ہلکی بارش اور کہیں بونداباندی اور پھوار پڑنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات (فوٹو : فائل)

رات اور صبح کے اوقات میں کہیں ہلکی بارش اور کہیں بونداباندی اور پھوار پڑنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات (فوٹو : فائل)

کراچی: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 3 روز کے دوران شہر میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔ 

محکمہ موسمیات کے ہیٹ ویو سینٹر کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ کے اثرات شہر کی فضاؤں پر موجود ہے، جس کے نتیجے میں اگلے 3 روز کے دوران شہر کا مطلع جذوی اور مکمل ابرآلود رہنے جب کہ رات اور صبح کے اوقات میں کہیں ہلکی بارش اور کہیں بونداباندی اور پھوار پڑنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کو شہر میں گرمی کازیادہ سے زیادہ پارہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا،صبح کےوقت کم سے کم درجہ حرارت 27ڈگری ریکارڈ ہوا،دن کے وقت ہوا میں نمی کاتناسب 59فیصد ریکارڈ ہوا،سمندر کی جنوب مغربی سمت سے چلنے والی ہواوں کی رفتار24کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو شہر کا مطلع ابرآلود رہنے جب کہ ہلکی بارش ہونے کی توقع ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

Source link

سعودی عرب اور یو اے ای میں برطرف 3 ہزار پاکستانی ڈاکٹروں کو بحال کرانے کا مطالبہ

0

سعودی عرب اور یو اے ای نے برسوں بعد اچانک ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو نکال دیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی عرب اور یو اے ای نے برسوں بعد اچانک ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو نکال دیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

 کراچی: سعودی عرب اور یو اے ای میں ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل تین ہزار پاکستانی ڈاکٹروں کی برطرفی پر ڈاکٹروں نے حکومت پاکستان سے نوٹس لیتے اور دونوں حکومتوں سے رابطہ کرکے ڈاکٹروں کو بحال کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر محمد عارف، پروفیسر خلیل احمد گل، پروفیسر نعیم الحق پروفیسر مصطفی قائم خانی، پروفیسر سید شاہد نور، عباس حسین، اطہر صدیقی اور دیگر نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل اسپیشلائزڈ ڈاکٹر گزشتہ 15 سال سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے، اس عرصے کے دوران دونوں ملکوں کی حکومتوں کو ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا لیکن اب اچانک ہی سعودی کمیشن فار ہیلتھ اسپیشلٹیز اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل 3 ہزار سے زائد پاکستانی ڈاکٹروں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی اور یواے ای کی حکومتوں کے مطابق یہ ڈاکٹرز کوالیفائیڈ نہیں ہیں ایسا کہنا ان کی تذلیل کے مترادف ہے، اس عمل سے پاکستان کے ساتھ اس ادارے کا وقار بھی مجروح ہوا ہے جہاں سے ان ڈاکٹروں نے ڈگریاں حاصل کیں، ہم مذکورہ اداروں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایم ڈی، ایم ایس کی اسناد ہمارے ملک کی اعلیٰ جامعات سے جاری کی جاتی ہیں اور ان کی حیثیت پر سوال اٹھانا ہمارے تدریسی نظام کی ہتک کے مترادف ہے۔

ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ اگر سیاسی وجوہات کی بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا تو حکومت پاکستان فوری طور پر ان دونوں ممالک کی حکومتوں سے رابطہ کرے اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کی جائیں، تین ہزار ڈاکٹرز کی برطرفی ان کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔

Source link

پاکستان کی تاریخی سفارتی فتح، بھارتی مندوب حواس باختہ

0

بھارتی مندوب بوکھلاہٹ کا شکار رہے اور ہر سوال کے جواب میں شملہ معاہدے کو لاتے رہے (فوٹو : فائل)

بھارتی مندوب بوکھلاہٹ کا شکار رہے اور ہر سوال کے جواب میں شملہ معاہدے کو لاتے رہے (فوٹو : فائل)

نیویارک سٹی: سلامتی کونسل کا اجلاس پاکستان کی تاریخی سفارتی فتح ہے جس پر بھارتی مندوب بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جوابات دینے سے کتراتے رہے۔ 

مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کے دوران بھارتی مندوب سید اکبر الدین شدید گھبراہٹ کا شکار نظر آئے اور صحافیوں کے سوالات پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ وہ آئے تو بھارت کا مقدمہ لڑنے لیکن نیوز کانفرنس میں صحافیوں اور کیمروں کے سامنے چاروں شانے چت ہوگئے۔

چہرے پر شکست کے آثار لیے بھارتی مندوب نے کشمیریوں کو گھروں میں قید کرنے کے سوال پرایسی منطق پیش کی کہ غیر ملکی صحافی بھی ہکا بکا رہ گئے، سلامتی کونسل میں معاملہ زیر بحث آنے پر موصوف کو پاکستان کے ساتھ شملہ معاہدہ یاد آ گیا اور کئی سوالوں کےجواب میں شملہ معاہدے کی گردان کرتے رہے۔

اس موقع پر صحافیوں نے دو مرتبہ اُن سے اجلاس کے نتیجے کے حوالے سے پوچھا اور وہ دونوں مرتبہ سوال کا جواب گول کرگئے کہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں، اسی طرح پوری کانفرس میں بھارتی مندوب تمام معاملات پاکستان کے ساتھ پرامن انداز میں حل کرنے کا راگ بھی الاپتے رہے۔

Source link

مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، سلامتی کونسل کا اعلامیہ جاری

0

سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فوٹو : فائل

سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فوٹو : فائل

 نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر ہونے والے سلامتی کونسل کے بند کمرہ  مشاورتی اجلاس سے متعلق اپنی ویب سائیٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کی غیر مستحکم صورتحال پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں 1965ء کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر پر براہ راست غور کیا گیا ہے۔

یہ پڑھیں: سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کرنے سے انکار

 

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارتی اقدام کے باعث خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ بیان میں 8 اگست کو اقوامتحدہ کے سیکٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان کا حوالہ بھی دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی اقدام نے ہماری خود مختاری کو چیلنج کیا، چین

بیان میں چینی مندوب کی نیوز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چینی مندوب نے پاکستان اور بھارت کو مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت ایسا کوئی قدم نہ اٹھا ئیں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستانی مندوب کی نیوز کانفرنس کا ذکر کیا گیا جس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا اجلاس میں بھارتی موقف کی نفی ہوئی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

Source link

Must Read